ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی 125ویں یومِ پیدائش: وزیر اعظم نریندر مودی کا خراجِ عقیدت، اتحاد، خود انحصاری اور قومی خدمت کے نظریات کو اجاگر کیا
وزیر اعظم نریندر مودی نے ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی 125ویں یومِ پیدائش کے موقع پر انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پوری زندگی بھارت کے اتحاد، خود انحصاری، قومی خدمت اور عوامی فلاح کے لیے وقف رہی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مکھرجی نے اپنی فکری صلاحیت، اخلاقی استقامت اور بے لوث خدمت کے ذریعے جدید بھارت کی تعمیر میں نمایاں کردار ادا کیا۔
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی 125ویں یومِ پیدائش کے موقع پر انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پوری زندگی بھارت کے اتحاد، خود انحصاری، قومی خدمت اور عوامی فلاح کے لیے وقف رہی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مکھرجی نے اپنی فکری صلاحیت، اخلاقی استقامت اور بے لوث خدمت کے ذریعے جدید بھارت کی تعمیر میں نمایاں کردار ادا کیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے جہاں انہیں آرام دہ زندگی میسر ہو سکتی تھی، تاہم انہوں نے قومی خدمت کو ترجیح دی۔ انہوں نے استعماریت، فرقہ واریت اور دیگر قومی چیلنجز کا مقابلہ کیا اور ذاتی زندگی میں بڑے سانحات کے باوجود عوامی خدمت کے مشن سے پیچھے نہیں ہٹے۔
نریندر مودی نے کہا کہ ڈاکٹر مکھرجی بھارت کے اتحاد اور سالمیت کے مضبوط حامی تھے۔ تقسیم ہند کے دوران انہوں نے مغربی بنگال کو بھارت کا حصہ برقرار رکھنے کے لیے اہم کردار ادا کیا، جبکہ بعد ازاں جموں و کشمیر کے معاملے پر بھی اپنی اصولی جدوجہد جاری رکھی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مکھرجی کی حراست میں وفات قومی تاریخ کا ایک اہم باب ہے اور 2019 میں آرٹیکل 370 اور 35(اے) کی منسوخی ان کے نظریات کو حقیقی خراجِ عقیدت تھی۔
وزیر اعظم نے ڈاکٹر مکھرجی کی تعلیمی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ کلکتہ یونیورسٹی کے کم عمر ترین وائس چانسلر بنے اور انہوں نے تعلیمی نظام میں کئی اصلاحات متعارف کرائیں۔ ان کی قیادت میں یونیورسٹی میں تحقیق، سائنسی تعلیم، زرعی کورسز، اساتذہ کی تربیت، طلبہ کی فلاح اور لائبریری کے بنیادی ڈھانچے کو فروغ دیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ ڈاکٹر مکھرجی نے یونیورسٹی کے یومِ تاسیس کی روایت شروع کی اور رابندر ناتھ ٹیگور سے جامعہ کے لیے خصوصی نغمہ تحریر کرنے کی درخواست کی تھی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ڈاکٹر مکھرجی نے بعد میں بھارتیہ جن سنگھ کی بنیاد رکھ کر ایک متبادل سیاسی نظریہ پیش کیا، جس کا مقصد بھارت کی ثقافتی اقدار کے تحفظ کے ساتھ ترقی اور عوامی خدمت کو فروغ دینا تھا۔
انہوں نے ڈاکٹر مکھرجی کے پہلے وزیرِ صنعت و رسد کی حیثیت سے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دامودر ویلی کارپوریشن، سندھری فرٹیلائزر پلانٹ اور صنعتی ترقی کی مضبوط بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ ہتھ کرگھا، کاٹیج انڈسٹری، دستکاروں اور ٹیکسٹائل کے شعبے کی ترقی پر بھی خصوصی توجہ دی۔
نریندر مودی نے اپنے ذاتی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سندھری فرٹیلائزر پلانٹ، جسے ڈاکٹر مکھرجی نے خود انحصاری کے وژن کے تحت قائم کیا تھا، کئی دہائیوں تک نظر انداز رہا، تاہم ان کی حکومت کو اس کے احیا میں کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مکھرجی نے جمہوری روایات اور مکالمے کو ہمیشہ اہمیت دی۔ وہ پنڈت جواہر لال نہرو کی کابینہ میں شامل ہوئے، مگر جب قومی مفاد میں اختلاف محسوس کیا تو باوقار انداز میں وزارت چھوڑ کر اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھی۔
وزیر اعظم نے آزادیِ اظہار کے موضوع پر بھی ڈاکٹر مکھرجی کے موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آئین کی پہلی ترمیم کی مخالفت کی تھی اور بعد کے برسوں میں ایمرجنسی سمیت دیگر اقدامات نے ان کے خدشات کو درست ثابت کیا۔
انہوں نے 1943 کے بنگال قحط اور 1942 کے تباہ کن سمندری طوفان کے دوران ڈاکٹر مکھرجی کی انسانی خدمات کو بھی یاد کیا اور کہا کہ انہوں نے متاثرین کی امداد کے لیے متعدد مراکز قائم کیے اور عوام کی مشکلات کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی تحریروں کے ذریعے بھی آواز بلند کی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی نوجوانوں کو ہمیشہ دیانت داری، محنت اور بہترین کارکردگی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے کی تلقین کرتے تھے۔ انہوں نے اظہارِ امید کیا کہ وکست بھارت کے وژن کو حقیقت بنانے کے لیے آج کی نوجوان نسل ڈاکٹر مکھرجی کے نظریات سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے ایک مضبوط، متحد، خود اعتماد اور ہمدرد بھارت کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرے گی۔