درگاہ پر توپ داغی گئی، کولہاپور کا واقعہ، ویڈیو وائرل
وائرل ہونے والی ویڈیو میں زعفرانی پگڑی باندھے ایک شخص کو درگاہ کے باب الداخلہ کی جانب توپ کا گولہ داغتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس سے پہلے توپ میں اہتمام کے ساتھ بارود اور دھماکو مادہ بھرتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

ممبئی: مہاراشٹر کے کولہاپور میں ایک واقعہ پیش آیا جس کی ویڈیو اب وائرل ہو رہی ہے۔
یہ واقعہ 18 فروری کو مہاشیوراتری کے موقع پر کولہا پور کے وشال گڑھ گاؤں میں درگاہ حضرت ملک ریحانؒ کے سامنے پیش آیا جہاں ہندوؤں کے ایک ہجوم نے درگاہ کی طرف رخ کرکے ایک توپ چھوڑی اور پھر جئے شری رام کے نعرے لگاتے ہوئے ناچنے لگے۔
وائرل ہونے والی ویڈیو میں زعفرانی پگڑی باندھے ایک شخص کو درگاہ کے باب الداخلہ کی جانب توپ کا گولہ داغتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس سے پہلے توپ میں اہتمام کے ساتھ بارود اور دھماکو مادہ بھرتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
توپ کا ہدف درگاہ کا باب الداخلہ ہے اور جیسے ہی توپ چلتی ہے وہاں موجود ہجوم جئے شری رام کے نعرے لگانے لگتا ہے۔ لوگ خوشی کے مارے چیختے ہیں اور رقص کرتے ہوئے جشن منانا شروع کردیتے ہیں۔
اس دوران ایک شخص جو ممکنہ طور پر مقامی ہندوتوا قائد ہرشل سروے ہے، لوگوں سے خطاب کرتا ہے۔ اس کے بعد درگاہ کے سامنے بھگوا جھنڈا بھی چڑھایا جاتا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ حضرت سید ملک ریحان میر صاحبؒ کی درگاہ، وشال گڑھ قلعہ میں ہی ہے جہاں اکثر سیاح آتے ہیں۔ مقامی صحافیوں نے بتایا کہ قلعہ میں ہی شیو مندر بھی ہے جو درگاہ کے قریب ہے۔ ہجوم اس مندر کے سامنے جمع تھا۔
مقامی ہندوتوا کارکن ہرشل سروے کا کہنا ہے کہ اس ویڈیو کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر سوشیل میڈیا پر پھیلایا جارہا ہے۔ ویڈیو میں جو دکھائی دے رہا ہے، اس کا مقصد وہ نہیں تھا جو لوگ سمجھ رہے ہیں۔
ان کا الزام ہے کہ درگاہ کو جانے والے راستے پر قبضے ہوچکے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس واقعہ کا تعلق ان کی شناخت سے ہے اور وہ یہ جنگ لڑتے رہیں گے۔
مقامی رپورٹس میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پولیس نے اس سلسلہ میں کوئی کارروائی نہیں کی۔ ایک اور ویڈیو میں آخری چند سکینڈس کے دوران کچھ پولیس والے نظر آرہے ہیں تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ پولیس کی نگرانی میں کیا گیا ہے۔