سی بی آئی نے نیٹ-یو جی 2026 پیپر لیک معاملے میں مزید دو افراد کو گرفتار کیا
اس نے ایک کوچنگ سینٹر کے مالک (جو خود ملزم ہے) کے بیٹے سمیت تین طلبہ کو ملزم پی وی کلکرنی سے کیمسٹری کے سوال نامے دلانے میں اہم رول نبھایا تھا۔ گرفتار کیا گیا دوسرا ملزم تیجس ہرشد کمار شاہ ہے، جو پونے میں واقع ایک کوچنگ سینٹر، ڈاکٹر ابھنگ پربھو میڈیکل اکیڈمی (اے پی ایم اے) میں فزکس کا فیکلٹی ہے۔ اسے نیٹ-یو جی 2026 امتحان کے لیک ہوئے فزکس کے سوالات گرفتار ملزم منیشا حولدار سے ملے تھے۔
نئی دہلی: مرکزی جانچ بیورو (سی بی آئی) نے نیشنل ایلیجیبلٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ (نیٹ یو جی) سوال نامہ لیک معاملے میں مزید دو ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جس سے اس معاملے میں گرفتار کیے گئے لوگوں کی کل تعداد 13 ہو گئی ہے سی بی آئی ذرائع نے بتایا کہ نیٹ-یو جی 2026 سوال نامہ لیک معاملے میں ڈاکٹر منوج شیرورے نام کے ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے، جو لاتور کا رہنے والا ایک ڈاکٹر ہے۔
اس نے ایک کوچنگ سینٹر کے مالک (جو خود ملزم ہے) کے بیٹے سمیت تین طلبہ کو ملزم پی وی کلکرنی سے کیمسٹری کے سوال نامے دلانے میں اہم رول نبھایا تھا۔ گرفتار کیا گیا دوسرا ملزم تیجس ہرشد کمار شاہ ہے، جو پونے میں واقع ایک کوچنگ سینٹر، ڈاکٹر ابھنگ پربھو میڈیکل اکیڈمی (اے پی ایم اے) میں فزکس کا فیکلٹی ہے۔ اسے نیٹ-یو جی 2026 امتحان کے لیک ہوئے فزکس کے سوالات گرفتار ملزم منیشا حولدار سے ملے تھے۔
اس معاملے میں پورے سلسلے اور سازش کا پتہ لگانے کے لیے جانچ جاری ہے۔ سی بی آئی نے اب تک 49 مقامات پر تلاشی لی ہے اور کئی قابلِ اعتراض دستاویزات، لیپ ٹاپ اور موبائل فون ضبط کیے ہیں۔ ضبط کی گئی چیزوں کا تفصیلی تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ سی بی آئی نے یہ معاملہ 12 مئی کو مرکزی وزارتِ تعلیم کے محکمہ اعلیٰ تعلیم کی طرف سے دی گئی تحریری شکایت کی بنیاد پر درج کیا تھا، جو نیٹ-یو جی 2026 امتحان کے مبینہ پیپر لیک سے متعلق تھا۔ معاملہ درج ہونے کے فوراً بعد، خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں اور ملک بھر میں مختلف مقامات پر تلاشی لی گئی۔ ساتھ ہی کئی مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔
اب تک اس معاملے میں دہلی، جے پور، گروگرام، ناسک، پونے، لاتور اور اہلیا نگر سے کل 13 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ مختلف خصوصی ٹیمیں آپس میں تال میل قائم کر کے جانچ کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ جانچ میں کیمسٹری، بائیولوجی اور فزکس کے ان سوالات کے لیک ہونے کے اصل ذریعے کا پتہ چلا ہے، جنہیں امتحان سے پہلے ہی پھیلا دیا گیا تھا۔