قومی

میناکشی نٹراجن کی نامزدگی منسوخ ہونے کے خلاف کانگریس کا احتجاج

دہلی پولیس مظاہرین کو بسوں میں بھر بھر کر لے گئی اور انہیں حراست میں لے لیا۔ حراست میں لیے جانے سے پہلے محترمہ نٹراجن نے کہا ”میں پہلے دن سے کہہ رہی ہوں کہ الیکشن کمیشن کمپرومائزڈ (جانبدار) ہے۔ یہ بات آج پھر سے ثابت ہو گئی۔ یہ معاملہ مدھیہ پردیش حکومت سے جڑا نہیں تھا، پھر بھی سماعت میں ریاستی حکومت کی طرف سے وکیل کھڑے دکھائی دیے۔

نئی دہلی: کانگریس نے مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا امیدوار محترمہ میناکشی نٹراجن کی نامزدگی منسوخ کیے جانے کو جمہوری نظام پر دھبہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف جمعہ کو یہاں احتجاج کیا اور الزام لگایا ہے کہ یہ کارروائی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے کی گئی ہے۔


کانگریس کی سینئر رہنما اور سابق رکن پارلیمنٹ محترمہ میناکشی نٹراجن، مدھیہ پردیش کے انچارج ہریش چودھری، ریاستی کانگریس صدر جیتو پٹواری اور اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر امنگ سنگھار کے ساتھ ہی کئی اہم رہنماؤں نے یہاں احتجاج کیا۔

دہلی پولیس مظاہرین کو بسوں میں بھر بھر کر لے گئی اور انہیں حراست میں لے لیا۔ حراست میں لیے جانے سے پہلے محترمہ نٹراجن نے کہا ”میں پہلے دن سے کہہ رہی ہوں کہ الیکشن کمیشن کمپرومائزڈ (جانبدار) ہے۔ یہ بات آج پھر سے ثابت ہو گئی۔ یہ معاملہ مدھیہ پردیش حکومت سے جڑا نہیں تھا، پھر بھی سماعت میں ریاستی حکومت کی طرف سے وکیل کھڑے دکھائی دیے۔

ہم ریاستوں کے خلاف لڑائی نہیں لڑ رہے ہیں، بلکہ الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ آفیسر کے کمپرومائزڈ ہونے کی بات کر رہے ہیں۔ اب وہ عوام کے سامنے ایکسپوز (بے نقاب) ہو چکے ہیں۔“


مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے کہا ”یہ واقعہ ملک کی جمہوری تاریخ میں ایک دھبہ ہے اور یہ کام بی جے پی اور الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے ہوا ہے۔ جب مدھیہ پردیش کانگریس کے اراکین اسمبلی نے اس آمریت کی مخالفت کی تو حکومت نے پولیس بھیج کر انہیں حراست میں لے لیا۔

ہماری آواز کو دبانے کی کوشش کی۔ لیکن ہم اس ’سیٹ چور‘ بی جے پی سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ اس ناانصافی کے خلاف ہماری آواز اور تیز ہوتی جائے گی۔“


کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ بھلے ہی انہیں احتجاج نہیں کرنے دیا گیا، لیکن اس غیر جمہوری کام کے خلاف پارٹی لڑتی رہے گی۔ کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ بی جے پی کی ’سیٹ چوری‘ جمہوریت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ لیکن وہ یاد رکھیں، ہم اپنی آخری سانس تک جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے لڑتے رہیں گے۔