مشرق وسطیٰ

سعودی عرب میں سیکڑوں نئے آثارِ قدیمہ دریافت، حضرت عمر فاروقؓ کے نام والا کتبہ بھی شامل

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سروے کے دوران 461 اسلامی کتبے، 34 ثمودی کتبے، چٹانوں پر بنے 1259 نقوش، پتھر سے بنے 11 ڈھانچے، 3 تاریخی محلات، قافلوں کے 2 راستے اور 4 کنویں دریافت کیے گئے۔

ریاض: سعودی ہیریٹیج کمیشن نے مدینہ ریجن کے المہد گورنریٹ میں آثارِ قدیمہ کے سروے کے دوسرے مرحلے کے اختتام پر مجموعی طور پر 1774 اہم دریافتوں کا اعلان کیا ہے۔

متعلقہ خبریں
دنیا کی بلند ترین زیرِ تعمیر عمارت کا منفرد سنگِ میل، سعودی عرب کو بڑا اعزاز
سعودی عرب میں عازمین حج کی تعداد 15 لاکھ 18 ہزار تک پہنچ گئی
اردو اکیڈمی جدہ کا گیارہواں سہ ماہی پروگرام شاندار انداز میں منعقد، تمثیلی مشاعرہ اور طلبہ کی پذیرائی
سعودی عرب میں میڈیکل و انجینئرنگ کی اعلیٰ تعلیم کے مواقع پر IIPA کا رہنمائی سیشن
ادبی فورم ریاض کا مشاعرہ بہ یاد تابش مہدی مرحوم


کمیشن کے مطابق یہ سروے تین علاقوں، السویریقیہ، المویہیہ اور حضہ میں کیا گیا جہاں آثارِ قدیمہ کے 156 نئے مقامات کی نشاندہی کی گئی۔


سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سروے کے دوران 461 اسلامی کتبے، 34 ثمودی کتبے، چٹانوں پر بنے 1259 نقوش، پتھر سے بنے 11 ڈھانچے، 3 تاریخی محلات، قافلوں کے 2 راستے اور 4 کنویں دریافت کیے گئے۔


نمایاں دریافتوں میں خلیفہ دوم حضرت عمر فاروقؓ کے نام والا کتبہ شامل ہے، جبکہ عربی شاعری پر مبنی نقوش بھی ملے ہیں جس سے اس مقام کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

سعودی ہیریٹیج کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ سعودی وژن 2030 کے تحت ملک بھر میں آثارِ قدیمہ کے تحفظ کے منصوبے جاری رکھے جائیں گے تاکہ مملکت کے ثقافتی ورثے کو محفوظ بنایا جا سکے۔