دہلی آن لائن سٹہ بازی: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے 1,000 کروڑ روپے کے گھپلے میں تین افراد کو گرفتار کر لیا
جمعرات کی صبح شروع ہونے والی یہ چھاپے کل دیر رات ایک بجے تک جاری رہے ۔ تفتیشی ایجنسی کے ذرائع کے مطابق تلاشی کے بعد تین ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتار کیے گئے ملزمان کے نام دیپک سنگھ اہلاوت، پرتھوی کمار اور وکاس تنیجا ہیں۔ دیپک سنگھ اہلاوت ہریانہ کا رہنے والا ہے، جبکہ پرتھوی کمار کا تعلق اتراکھنڈ سے ہے۔
نئی دہلی: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے مبینہ 1,000 کروڑ روپے کے آن لائن سٹہ بازی اور منی لانڈرنگ ریکیٹ سے جڑے ایک بڑے آپریشن کے تحت دہلی این سی آر، بنگلور اور دیگر مقامات پر تقریباً 18 ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پر چھاپے مارے۔
جمعرات کی صبح شروع ہونے والی یہ چھاپے کل دیر رات ایک بجے تک جاری رہے ۔ تفتیشی ایجنسی کے ذرائع کے مطابق تلاشی کے بعد تین ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتار کیے گئے ملزمان کے نام دیپک سنگھ اہلاوت، پرتھوی کمار اور وکاس تنیجا ہیں۔ دیپک سنگھ اہلاوت ہریانہ کا رہنے والا ہے، جبکہ پرتھوی کمار کا تعلق اتراکھنڈ سے ہے۔
کارروائی کے دوران ای ڈی نے مبینہ طور پر تفتیش سے متعلق کئی اہم دستاویزات، الیکٹرانک آلات اور دیگر ڈیجیٹل شواہد ضبط کیے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ معاملہ تقریباً 1,000 کروڑ روپے کے مبینہ آن لائن سٹہ بازی اور گیمنگ سے جڑے منی لانڈرنگ نیٹ ورک سے متعلق ہے۔ ای ڈی کے بنگلور علاقائی دفتر نے میسرز گیمز کرافٹ ٹیکنالوجی پرائیویٹ لمیٹڈ، اس کے ڈائریکٹرز اور کیس سے منسلک کئی دیگر ملزمان کے خلاف یہ کارروائی کی۔
حکام کے مطابق اس سلسلے میں پہلے بنگلور کے مقامی تھانوں میں کئی ایف آئی آر درج کی گئی تھیں۔ اس کے بعد ای ڈی نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (پی ایم ایل اے) کی دفعات کے تحت تحقیقات اپنے ہاتھ میں لیں اور مزید کارروائی شروع کی۔
ایجنسی نے گزشتہ سال میسرز گیمز کرافٹ ٹیکنالوجی پرائیویٹ لمیٹڈ اور دیگر کمپنیوں سے منسلک ایک الگ لیکن متعلقہ معاملے میں بھی تلاشی مہم چلائی تھی۔ گزشتہ سال 18 نومبر سے 22 نومبر کے درمیان، ای ڈی نے بنگلور اور گروگرام میں میسرز نردیش نیٹ ورک پرائیویٹ لمیٹڈ (این این پی ایل)، میسرز گیمز کرافٹ ٹیکنالوجیز پرائیویٹ لمیٹڈ (جی ٹی پی ایل) کے دفاتر کے ساتھ ساتھ ان کے ڈائریکٹرز اور دیگر مشتبہ افراد کی رہائش گاہوں پر چھاپے مارے تھے۔
وہ تحقیقات کرناٹک پولیس کی درج کردہ ایف آئی آرز کی بنیاد پر شروع کی گئی تھیں۔ ای ڈی کے مطابق ایف آئی آرز میں الزام لگایا گیا تھا کہ این این پی ایل کی طرف سے چلایا جانے والا گیمنگ پلیٹ فارم ‘پاکٹ 52’ بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی میں ملوث تھا۔ اس میں کھیل کے نتائج میں ہیرا پھیری، کھلاڑیوں کے درمیان ملی بھگت، تکنیکی خامیاں، رقم نکالنے پر پابندی اور پلیٹ فارم پر شفافیت کی کمی جیسے الزامات شامل تھے۔