صحت

پری ڈائیبیٹیز کی ابتدائی علامات: بروقت اسکریننگ کس طرح ٹائپ 2 ذیابیطس سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے

طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پری ڈائیبیٹیز (Prediabetes) کی علامات اکثر خاموشی سے ظاہر ہوتی ہیں، جس کے باعث بہت سے افراد اس بات سے بے خبر رہتے ہیں کہ وہ آہستہ آہستہ ٹائپ 2 ذیابیطس کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ابتدائی علامات کی بروقت شناخت اور وقت پر اسکریننگ سنگین طبی پیچیدگیوں سے بچنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

حیدرآباد: طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پری ڈائیبیٹیز (Prediabetes) کی علامات اکثر خاموشی سے ظاہر ہوتی ہیں، جس کے باعث بہت سے افراد اس بات سے بے خبر رہتے ہیں کہ وہ آہستہ آہستہ ٹائپ 2 ذیابیطس کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ابتدائی علامات کی بروقت شناخت اور وقت پر اسکریننگ سنگین طبی پیچیدگیوں سے بچنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

یہ موضوع 14 جون 2026 کو منصف نیوز 24×7 کے زیر اہتمام پیش کیے گئے پروگرام "صحت کی بات | ہیلتھ کیئر اینڈ ویلنیس – ڈائیبیٹیز اسپیشل” کے پہلے ایپی سوڈ میں زیر بحث آیا۔ پروگرام کی میزبانی ڈاکٹر عبدالمغنی صدیقی نے کی، جبکہ معروف معالج اور ذیابیطس کے ماہر ڈاکٹر مدثر علی نے پری ڈائیبیٹیز کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اس سے بچاؤ کے عملی طریقوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

ڈاکٹر مدثر علی کے مطابق پری ڈائیبیٹیز ایسی کیفیت ہے جس میں خون میں شوگر کی سطح معمول سے زیادہ ہو جاتی ہے، تاہم وہ ابھی اس حد تک نہیں پہنچتی جسے ذیابیطس کی باقاعدہ تشخیص قرار دیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مرحلہ ایک اہم انتباہی اشارہ ہے جو افراد کو اپنی صحت بہتر بنانے اور مستقبل میں ذیابیطس سے بچنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بروقت طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلیاں لا کر ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق 35 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد، ذیابیطس کی خاندانی تاریخ رکھنے والے لوگ، زائد وزن یا موٹاپے کا شکار افراد، پیٹ کے گرد اضافی چربی رکھنے والے افراد، جسمانی سرگرمیوں سے دور رہنے والے افراد اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو باقاعدہ بلڈ شوگر ٹیسٹ کروانا چاہیے۔

پری ڈائیبیٹیز کی عام علامات میں بار بار پیشاب آنا، زیادہ پیاس لگنا، مسلسل تھکن، بغیر وجہ وزن میں کمی، نظر دھندلا جانا اور پیروں میں جلن یا سن ہونے کا احساس شامل ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ علامات مسلسل برقرار رہیں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

ماہرین نے زور دے کر کہا کہ پری ڈائیبیٹیز کی علامات کو نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ بروقت تشخیص کے ذریعے خون میں شوگر کی بڑھتی ہوئی سطح کو قابو میں لایا جا سکتا ہے اور مستقبل کی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔

صحت مند زندگی کے لیے متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب وزن برقرار رکھنا، ذہنی دباؤ پر قابو پانا اور روزانہ کم از کم سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند کو ضروری قرار دیا گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ سادہ عادات بلڈ شوگر کو متوازن رکھنے اور ذیابیطس کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

اس موقع پر احتیاطی طبی نگہداشت کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ فیتھ ہاسپٹل میں ذیابیطس، جنرل میڈیسن، ہائی بلڈ پریشر، تھائرائیڈ امراض، موٹاپا، سانس کی بیماریوں، نیند کے مسائل، تشخیصی خدمات، فارمیسی اور ان پیشنٹ کیئر جیسی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

پروگرام کے اختتام پر ماہرین نے عوام سے اپیل کی کہ وہ باقاعدہ طبی معائنہ، بروقت اسکریننگ اور صحت مند طرزِ زندگی کو اپنائیں تاکہ مستقبل میں ذیابیطس اور دیگر بیماریوں کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔

منصف نیوز 24×7 کی "صحت کی بات” سیریز کے آئندہ پروگراموں میں تھائرائیڈ امراض، موٹاپا، ہائی بلڈ پریشر اور دیگر اہم صحت کے موضوعات پر ماہرین کے ساتھ گفتگو پیش کی جائے گی۔