حیدرآباد (منصف نیوز بیورو)نظامس انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس (نمس) نے 2,000 گردہ ٹرانسپلانٹ سرجریز مکمل کرکے ایک نایاب سنگِ میل حاصل کیا ہے اور اعضا کی پیوندکاری کے شعبے میں ملک کے نمایاں سرکاری طبی اداروں میں شامل ہوگیا ہے۔
نمس نے ایک ہی ادارہ جاتی پروگرام کے تحت 2,000 گردہ ٹرانسپلانٹس انجام دینے والے سرکاری اسپتال کے طور پر ریکارڈ قائم کیا ہے۔جمعہ کے روز اس کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے نمس کے ڈائرکٹر ڈاکٹر بیرپانے بتایا کہ ادارے میں پہلا گردہ ٹرانسپلانٹ 1989 میں انجام دیا گیا تھا اور اب کامیابی کے ساتھ 2,000 ٹرانسپلانٹس کا ہندسہ عبور کرلیا گیا ہے۔
انہوں نے اس تاریخی کامیابی کا سہرا یورولوجی اور نیفرولوجی شعبوں کے ڈاکٹروں اور معاون طبی عملے کی غیر معمولی وابستگی اور مربوط خدمات کو دیا۔ڈاکٹر بیراپا نے چیف منسٹراے ریونت ریڈی اور وزیر صحت دامودر راج نرسمہا کا بھی شکریہ ادا کیا۔
جنہوں نے نمس میں جدید طبی سہولیات کے فروغ، خصوصاً غریب طبقات کیلئے، مسلسل تعاون فراہم کیا۔یہ کامیابی اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ نمس آخری مرحلے کے گردوں کے مرض میں مبتلا غریب اور متوسط طبقے کے مریضوں کیلئے زندگی کی امید ثابت ہوا ہے۔ 2,000 مریضوں میں سے تقریباً 95 فیصد کو آروگیہ شری ہیلتھ انشورنس اسکیم اور چیف منسٹر ریلیف فنڈ کے تحت مکمل طور پر مفت علاج فراہم کیا گیا۔
گردہ ٹرانسپلانٹ سرجری کے علاوہ حکومت تلنگانہ آروگیہ شری اسکیم کے تحت مریضوں کو زندگی بھر استعمال ہونے والی امیونوسپریسیو ادویات بھی مفت فراہم کررہی ہے، جس سے مریضوں پر طویل مدتی مالی بوجھ میں نمایاں کمی آئی ہے۔ڈاکٹر بیراپا نے یورولوجی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبے نے ٹرانسپلانٹ پروگرام کو سرکاری طبی شعبے کے کامیاب ترین پروگراموں میں تبدیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ٹیم نے متعدد پیچیدہ سرجریز انجام دی ہیں۔