کمیشن کی شکل میں اُجرت
آج کل مکان کے خریدنے اور بیچنے میں دلالی کی جاتی ہے اور دلال کمیشن وصول کرتے ہیں ، دلال کے بغیر زمین کا بیچنا دشوار ہوتا ہے اور بعض اوقات اپنی خواہش کے مطابق زمین یا مکان کا خریدکرنا بھی دشوار ہوتا ہے ،
سوال:- آج کل مکان کے خریدنے اور بیچنے میں دلالی کی جاتی ہے اور دلال کمیشن وصول کرتے ہیں ، دلال کے بغیر زمین کا بیچنا دشوار ہوتا ہے اور بعض اوقات اپنی خواہش کے مطابق زمین یا مکان کا خریدکرنا بھی دشوار ہوتا ہے ،
تو اس طرح دلالی کا کام کرنے والے دلال کی خدمات سے استفادہ کرنے اور اس کام پر کمیشن لینے کا کیا حکم ہے ؟(نبیل احمد، مالیگاؤں)
جواب :- کسی کے لئے گاہک تلاش کرنا یا کسی گاہک کے لئے اس کی مناسب شئے تلاش کرنا ایک جائز عمل ہے اور جائز عمل کی اُجرت لینا بھی جائز ہے ، اب اُجرت مقرر کرنے کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں :
ایک یہ کہ ایک متعین رقم مقرر کردی جائے ، جیسے فلاں کام کی اُجرت ایک ہزار روپے ہوگی ، یہ زیادہ بہتر ہے اور اس کے درست ہونے پر اتفاق ہے ،
دوسری صورت فیصد کے طورپر اُجرت متعین کرنے کی ہے ، مثلاً آپ جتنی قیمت میں فروخت کریں گے ، اس کا دو فیصد اُجرت ادا کرنی ہوگی ، اس کو ’’اُجرت سمسار ‘‘ کہا جاتا تھا ، بعد کے فقہاء نے اس کے رواج کو دیکھتے ہوئے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ اس کی وجہ سے کوئی نزاع پیدا نہیں ہوتی ہے ، اس کو درست قرار دیا ہے ؛ اس لئے اُجرت مقرر کرنے کی یہ صورت بھی جائز ہے :
سئل عن محمد بن سلمۃ عن أجرۃ السمسار ، فقال : ارجو أنہ لا باس بہ ، وان کان فی الأصل فاسداً لکثرۃ التعامل وکثیر من ہذا غیر جائز فجوزوہ لحاجۃ الناس إلیہ کدخول الحمام الخ (ردالمحتار : ۹؍۸۷) –
البتہ یہ ضروری ہے کہ معاملہ واضح ہو اور اس میں جھوٹ اور دھوکہ نہ ہو ، مثلاً کمیشن کی بات اس نے دونوں فریقوں سے کی ؛ لیکن ایک فریق سے کہا کہ میں جو کچھ نفع لے رہا ہوں ، آپ ہی سے لے رہا ہوں ، دوسرے فریق سے نہیں لیتا تو یہ جھوٹ بھی ہے اور دھوکہ بھی ، یہ جائز نہیں ہوگا ۔