مسجد پرنس شہامت جاہ بہادر ریڈہلز میں منعقدہ جلسہ جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انعقاد
مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری ودیگر کے خطابات
مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری ودیگر کے خطابات
حیدرآباد : کل ہند مجلس فیضان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر اہتمام مسجد پرنس شہامت جاہ بہادر ریڈہلز حیدرآبادمیں جلسہ جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انعقاد عمل میں آیا خطیب وامام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز نامپلی حیدرآباد مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری مولانا سید رضوان پاشاہ قادری خطیب مسجد ھذا سمیت دیگر نے خطابات کئے جناب محمد رحیم اللہ خان نیازی نے نگرانی کیا جناب محمد حسین نقشبندی زبیر نے ناظم جلسہ رہے
حضرت مولانا سید رفعت علی نقشبندی خطیب مولانا سید شوکت حسین نقشبندی حضرت سید شجاعت حسین قادری جناب عبد الجلیل طارق کے علاوہ دیگر حضرات کہ نشین پر رونق افروز رہے ہیں دوران جلسہ خطیب وامام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز نامپلی حیدرآباد مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری اظہار خیال کرتے ہوئے بتلایا کہ معلم چار حرفی لفظ اپنے اندر انتہائی خوبصورت مفاہیم سمیٹے ہوئے ہے۔ مثلاً م: محبت و مہربانی، ع: علم و عمل، ل: لگاؤ اور م: مددو معاون۔ گویا محبت و مہربانی سے علم و عمل کے لگاؤ میں ممدو معاون استاد کے حروف سے یہ اخذ کرسکتے ہیں: ’’اللہ اور انسان کو سمجھنے میں تعاون دلائے‘‘، ’’اللہ اور انسان سے تعلق استوار کرادے‘‘۔ قرآن و حدیث میں بھی معلمی کی فضیلت دیگر شعبوں سے بڑھ کر ہے بلکہ معلمی کو شیوہ پیغمبری قرار دیا گیا ہے۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے: ’’بے شک مجھے معلم بناکر بھیجا گیا ہے‘‘، ’’علماء انبیاء کے وارث ہیں‘‘۔
صاحب نہج البلاغہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا ارشاد ہے کہ اگر کوئی شخص مجھے ایک لفظ سکھائے تو میں اس کا غلام ہوں۔ استاد و شاگرد یا معلم و تلمیذ کا رشتہ روحانی تعلق پر مبنی ہوتا ہے۔ والدین ہمیں عدم سے ہستی میں لاتے ہیں اور اساتذہ زمین سے آسمانوں تک کا سفر سکھاتے ہیں۔ اچھے استاد وہ ہیں جو شاگردوں کے بنجر ذہن کو کھلیان بنادیں جو گمان کو یقین میں بدل دیں، جو پتھر کو تراش کر ہیرا بنادیں۔ استاد وہ ہے جس کی چشم بصیرت دل و نگاہ کو بصیرت سے مامور کردے، استاد وہ ہے جو سوچوں کی شب تاریک کو روز روشن کی طرح عیاں کردے۔ استاد وہ ہستی ہے جس کے لہجے میں مٹھاس اور نگاہوں میں شفقت ہو، رویے میں پیار برستا ہو، جو اپنے ہاتھوں میں جگنو لیے شمس و قمر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ سکے۔
یہ مہر و تاباں سے جاکر کہہ دو، کہ اپنی کرنوں کو گن کے رکھیں
میں اپنے صحرا کے ذرے ذرے کو خود چمکنا سکھا رہا ہوں
5 ستمبر کو پوری ہندوستان میں ٹیچرز ڈے بڑے ذوق و شوق سے منایا جاتا ہے اور سال میں ایک دن اپنے اساتذہ سے محبت و احترام کا حقِ شاگردی ادا کردیا جاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’عالم کی روشنائی شہید کے خون سے مقدس تر ہے‘‘۔
کتب تواریخ گواہ ہیں کہ جب ہندوستان کی انگریز حکومت نے حضرت علامہ اقبالؒ کو سر کا خطاب دینے کا ارادہ کیا تو اقبالؒ کو وقت کے گورنر نے اپنے دفتر آنے کی دعوت دی۔ حضرت علامہ اقبالؒ نے یہ خطاب لینے سے انکار کردیا۔ جس پر گورنر بے حد حیران ہوا۔ وجہ دریافت کی تو حضرت علامہ اقبالؒ نے فرمایا: میں صرف ایک صورت میں یہ خطاب وصول کرسکتا ہوں کہ پہلے میرے استاد مولوی میر حسن کو شمس العلماء کا خطاب دیا جائے۔ یہ سن کر انگریز گورنر نے کہا: ڈاکٹر صاحب! آپ کو تو سر کا خطاب اس لیے دیا جارہا ہے کہ آپ بہت بڑے شاعر ہیں آپ نے کتابیں تخلیق کی ہیں۔ بڑے بڑے مقالات تخلیق کیے ہیں۔ آپ کے استاد مولوی میر حسن صاحب نے کیا تخلیق کیا ہے؟ یہ سن کر علامہ اقبالؒ نے جواب دیا:
’’مولوی میر حسن نے اقبال تخلیق کیا ہے‘‘۔
اس پر انگریز گورنر نے حضرت علامہ اقبالؒ کی بات مان لی اور ان کے استاد مولوی میر حسن کو شمس العلماء کا خطاب دینے کا فیصلہ کرلیا۔ اس پر مستزاد حضرت علامہ اقبالؒ نے مزید کہا کہ میرے استاد کو شمس العلماء کا خطاب دینے کے لیے یہاں نہ بلایا جائے بلکہ ان کو یہ خطاب دینے کے لیے سرکاری تقریب کو سیالکوٹ میں منعقد کیا جائے یعنی میرے استاد کے گھر۔ پھر ایسا ہی ہوا۔ مولوی میر حسن کو آج شاید کوئی بھی نہ جانتا اگر وہ علامہ اقبالؒ کے استاد نہ ہوتے۔ آج وہ شمس العلماء مولوی میر حسن کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ یہ تھا استاد کا مقام اور عظمت جس کا مقابلہ نہیں۔ حضرت امام غزالیؒ اساتذہ یا معلمین کو درج ذیل آداب کا خیال رکھنا ضروری قرار دیتے ہیں:
معلم شاگردوں کے ساتھ محبت و شفقت سے پیش آئے انہیں اپنی اولاد کی طرح سمجھے۔ استاد کے قول و فعل میں مطابقت ہو۔
شاگردوں سے ان کے معیار اور ذہنی سطح کے مطابق بات چیت کرے۔
تعلیم کا صلہ طلب نہ کرے، نہ ہی خوشامد اور تعریف کی خواہش کرے۔ جہاں تک ممکن ہو طلبہ کو نصیحت کرتا رہے۔
حکیمانہ انداز سے نصیحت کرے۔ سختی سے طلباء کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور معلم کا وقار نہیں رہتا۔ انتہائی اشد ضرورت میں بدنی سزا دی جائے مگر وہ بھی تین چھڑیوں سے زیادہ نہ ہو۔
تعلم و تعلیم میں بہترین نتائج انہی اصولوں پر عمل پیرا ہوکر حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے پوری انسانیت کے لیے علم کی روشنی کو لازمی قرار دینے کے لیے پہلی وحی اقراء سے شروع کی اور رب نے خود انسان کو علم سکھایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معلم اعظم بناکر بھیجا اور نبوت کا منصب منصبِ معلمی بنایا ہے۔
لہذا معاشرے کی بقاء و ترقی کے لیے اچھے اساتذہ ناگزیر ہیں۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ اس آدمی کی کوئی قیمت نہیں جو نہ معلم ہے اور نہ متعلم۔ علم کو مومن کی گمشدہ میراث قرار دیا گیا ہے اور یہ میراث فقط درس گاہوں ہی سے ممکن نہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کا خاص انعام ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُمّی تھے اور معلمِ انسانیت بن کر آئے۔
یہ فیضان نظر تھا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی
معلمی کے لیے اگر ڈگریوں اور کتابوں کی ہی اہمیت ہوتی تو حضرت شمس تبریزؒ حضرت مولانا رومؒ کی کتابیں کنویں میں نہ پھینکتے اور مولانا رومؒ یہ فرماتے:
مولوی ہر گز نہ شُد مولانائے روم
تا غلام شمس تبریز نہ شدُ
آقائے دو جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لے کر خلفائے راشدین، امہات المومنین، تابعین اور تبع تابعین میں متعدد ہستیاں ایسی گذری ہیں جو تلمیذ الرحمن تھیں اور ان کی زندگیاں بنی نوعِ انسان کے لیے مینارہ نور کی حیثیت رکھتی ہیں۔