دہلی

کسانوں کا دہلی چلو مارچ دوبارہ شروع ہوجائے گا

پنڈھیر کا یہ بیان بی جے پی کی مرکزی حکومت کی یہ تجویز مسترد کردینے کے ایک دن بعد آیا کہ مرکز اپنی ایجنسیوں کے ذریعہ 5 سال تک دالیں‘ مکئی اور کپاس ایم ایس پی پر خریدے گا۔ کسانوں نے کا کہنا ہے کہ یہ تجویز اُن کے حق میں نہیں ہے۔

چندی گڑھ: کسان قائد سرون سنگھ پنڈھیر نے منگل کے دن کہا کہ مرکز کو فصلوں کے لئے اقل ترین امدادی قیمت(ایم ایس پی) پر قانون لانے کے لئے پارلیمنٹ کا ایک روزہ اجلاس طلب کرنا چاہئے۔ ایم ایس پی احتجاجی کسانوں کا اہم مطالبہ ہے۔ انہوں نے مرکز سے یہ بھی کہا کہ کسانوں کے دیگر اہم مطالبات بشمول قرض معافی بھی قبول کرلئے جائیں۔

متعلقہ خبریں
میڈیکل کالجوں میں تلنگانہ طلبہ کے صدفیصد داخلوں کو یقینی بنایا جائے: ہریش راؤ
انتخابی ضابطہ اخلاق لاگوہونے سے قبل کسانوں کے مطالبات قبول کرلئے جائیں: جگجیت سنگھ
منی پور کا مسئلہ پارلیمنٹ میں پوری طاقت سے اٹھایا جائے گا: راہول گاندھی
سی آئی ایس ایف کا 3300 رکنی دستہ آج سے پارلیمنٹ سیکوریٹی سنبھال لے گا
کویتی پارلیمنٹ تحلیل

پنڈھیر کا یہ بیان بی جے پی کی مرکزی حکومت کی یہ تجویز مسترد کردینے کے ایک دن بعد آیا کہ مرکز اپنی ایجنسیوں کے ذریعہ 5 سال تک دالیں‘ مکئی اور کپاس ایم ایس پی پر خریدے گا۔ کسانوں نے کا کہنا ہے کہ یہ تجویز اُن کے حق میں نہیں ہے۔

اتوار کے دن کسان نیتاؤں سے چوتھے دور کی بات چیت میں 3 مرکزی وزرا کی کمیٹی نے تجویز کیا تھا کہ حکومت کسانوں کے ساتھ ایک معاہدہ کرے گی جس کے تحت مرکزی ایجنسیاں 5 سال تک ایم ایس پی پر دالیں‘ مکئی اور کپاس خریدیں گی۔

سمیکت کسان مورچہ(غیرسیاسی) اور کسان مزدور مورچہ ”دہلی چلو“ مارچ کی قیادت کررہے ہیں۔ پنجاب اور ہریانہ کے بیچ سرحدی پوائنٹ پر میڈیا سے بات چیت میں پنڈھیر نے جو کسان مزدور مورچہ کی نمائندگی کرتے ہیں‘ کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ایم ایس پی گارنٹی دینے کے لئے قانون بنے۔

وزیراعظم میں اگر قوتِ ارادی ہے تو پارلیمنٹ کا ایک روزہ اجلاس طلب کیا جاسکتا ہے۔ کوئی بھی اپوزیشن جماعت اس کی مخالفت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ میرا مطالبہ ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کو اپنا موقف واضح کردینا چاہئے کہ مرکز اگر ایم ایس پی پر قانون لاتا ہے تو وہ اس کے حق میں ووٹ دیں گی‘ چاہے وہ شرومنی اکال دَل ہو یا کانگریس انہیں اپنا موقف واضح کردینا چاہئے۔

ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس اور دیگر جماعتوں کو بھی اپنی پوزیشن واضح کردینی چاہئے۔ پنڈھیر نے کہا کہ کسانوں کے 3 بڑے مطالبات ہیں۔ تمام فصلوں کے لئے ایم ایس پی کی قانونی گارنٹی‘ سوامی ناتھن کمیشن کی سفارش کے مطابق سی 2 پلس 50 فیصد فارمولہ پر عمل آوری اور قرض معافی ان میں شامل ہیں۔

انہوں نے کہاکہ مرکزی وزرا ارجن منڈا‘ پیوش گوئل اور نتیانندرائے کے ساتھ میٹنگ میں کاشتکاروں نے تجویز کیا کہ ایم ایس پی پر قانون سازی کے لئے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کیا جانا چاہئے۔ قرض معافی پر انہوں نے کہا کہ حکومت کی رپورٹس کے بموجب کسانوں کا جملہ قرض 18.5لاکھ کروڑ روپے ہے۔

 انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی سے خواہش کی کہ وہ زرعی قرض معافی کا اعلان کریں جس کے لئے طریقہ ئ کار بعد میں وضع ہوسکتا ہے۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ موجودہ وزیراعظم طاقتور وزیراعظم ہے‘ اگر وہ 80 کروڑ کسانوں اور زرعی مزدوروں کا قرض معاف کرنے کا اعلان کردے تو بی جے پی کے دعویٰ پر مہر لگ جائے گی۔

دہلی چلو مارچ کے بارے میں پوچھنے پر کسان قائد نے کہا کہ چہارشنبہ سے دہلی کی طرف کوچ کرنے کا ہمارا اعلان برقرار ہے۔

a3w
a3w