بنگلہ دیش میں ایندھن کی قیمتوں میں زبردست اضافہ
بنگلہ دیشی اخبار 'دی ڈیلی سٹار' کی رپورٹ کے مطابق، ہفتہ کی رات سے نئی قیمتوں کے نفاذ کے بعد سے پٹرول کی قیمت 116 ٹکا بڑھ کر 135 ٹکا (تقریباً 1.10 ڈالر) فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل 100 ٹکا سے بڑھ کر 115 ٹکا اور کیروسین 112 سے بڑح کر 130 ٹکا فی لیٹر ہو گیا ہے۔
ڈھاکہ: بنگلہ دیش حکومت نے مغربی ایشیائی بحران کے پیش نظر ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کردیا ہے۔
بنگلہ دیشی اخبار ‘دی ڈیلی سٹار’ کی رپورٹ کے مطابق، ہفتہ کی رات سے نئی قیمتوں کے نفاذ کے بعد سے پٹرول کی قیمت 116 ٹکا بڑھ کر 135 ٹکا (تقریباً 1.10 ڈالر) فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل 100 ٹکا سے بڑھ کر 115 ٹکا اور کیروسین 112 سے بڑح کر 130 ٹکا فی لیٹر ہو گیا ہے۔ اس طرح قیمتوں میں 10 سے 15 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے، جو اب تک کی ریکارڈ سطح ہے۔
2024 میں عالمی مارکیٹ کے حساب سے قیمتیں طے کرنے کا خودکار نظام شروع ہونے کے بعد سے یہ پہلی بار ہے، کہ قیمتوں میں اتنا بڑا اضافہ ہوا ہے۔
محکمہ توانائی کے ترجمان منیر حسین چودھری نے کہا کہ حکومت نے آخری لمحات تک مقامی مارکیٹ میں قیمتیں مستحکم رکھنے کی کوشش کی لیکن عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ نے اسے ناممکن بنا دیا۔
ڈیلی اسٹار سے بات کرتے ہوئے مسٹر چودھری نے کہا، "دنیا بھر میں قیمتیں صبح سے شام تک بدل رہی ہیں۔ ہم استحکام چاہتے تھے، لیکن موجودہ معیشت پر مزید بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا۔”
ترجمان نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز میں غیر یقینی صورتحال نے ایندھن کی درآمدات کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے، جس سے ملک کی سپلائی متاثر ہورہی ہے۔