غزہ کی صورتحال پر حکومت کی خاموشی حیران کن ہے: سونیا گاندھی
ہفتہ کو ایک انگریزی روزنامے میں اس موضوع پر شائع ہونے والے محترمہ گاندھی کے مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس صدر ملیکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے کہا کہ موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی نے ہندستان کو اپنے روایتی شراکت داروں، فلسطین، ایران اور مغربی ایشیا کے ممالک سے دور کر دیا ہے اور ملک عالمی رائے عامہ سے بھی بتدریج الگ تھلگ ہوتا جا رہا ہے۔
نئی دہلی: کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ غزہ پر ہونے والے حملوں کے خلاف پوری دنیا مسلسل آواز اٹھا رہی ہے، لیکن حکومت ہند اس معاملے پر خاموش ہے، جو حیران کن ہے۔
ہفتہ کو ایک انگریزی روزنامے میں اس موضوع پر شائع ہونے والے محترمہ گاندھی کے مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس صدر ملیکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے کہا کہ موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی نے ہندستان کو اپنے روایتی شراکت داروں، فلسطین، ایران اور مغربی ایشیا کے ممالک سے دور کر دیا ہے اور ملک عالمی رائے عامہ سے بھی بتدریج الگ تھلگ ہوتا جا رہا ہے۔
ملیکارجن کھرگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ محترمہ گاندھی کا مضمون مودی حکومت کی خاموشی اور غیرفعالیت پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی بھائیوں، بہنوں، خصوصاً بچوں پر ہونے والے حملوں کے دوران ہندستان کی خاموشی نہ اخلاقی طور پر درست ہے اور نہ ہی منطقی۔ ہمارا قومی جذبہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا مطالبہ کرتا ہے، جب کہ قومی مفاد بھی یہی توقع کرتا ہے کہ ہندستان غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور مغربی کنارے میں لاکھوں فلسطینی خاندانوں کی بے دخلی کے خلاف ابھرنے والی عالمی رائے عامہ کے مطابق اپنا واضح مؤقف اختیار کرے۔
راہل گاندھی نے بھی محترمہ گاندھی کے مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں ہندستان مسلسل اپنے اسٹریٹجک دائرۂ اثر سے کھسکتا جا رہا ہے، جبکہ دنیا کا ایک بڑا حصہ اس مسئلے پر اسرائیل سے فاصلہ اختیار کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا اسرائیل کا دورہ تاریخ میں ایک حیران کن اسٹریٹجک فیصلے کے طور پر درج ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہندستانی قوم کی بنیادی روح یہ ہے کہ فلسطینی بھائیوں، بہنوں اور ان بچوں کے حق میں آواز بلند کی جائے جو اس تنازعے سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔
لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف نے کہا کہ محترمہ گاندھی نے اپنے مضمون کے ذریعے ہندستان سے آزاد خارجہ پالیسی کی روایت کو زندہ کرنے، انسانی اقدار کو اولین ترجیح دینے اور غزہ کے مسئلے پر اخلاقی وضاحت کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کرنے کی اپیل کی ہے۔