مشرق وسطیٰ

حماس نے فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف عالمی عدالت انصاف کا خیر مقدم کیا

فلسطینی تحریک مزاحمت [حماس] نے جنوبی افریقہ کی درخواست پر فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف عالمی عدالت انصاف کا خیر مقدم کرتے ہوئے حمایت کی ہے۔ اس امر کا اعلان حماس نے ایک بیان میں کیا ہے۔

غزہ: فلسطینی تحریک مزاحمت [حماس] نے جنوبی افریقہ کی درخواست پر فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف عالمی عدالت انصاف کا خیر مقدم کرتے ہوئے حمایت کی ہے۔ اس امر کا اعلان حماس نے ایک بیان میں کیا ہے۔

متعلقہ خبریں
نیتن یاہو نے کم وسائل میں بھی لڑنے کا اعلان کیا
غزہ میں پہلا روزہ، اسرائیل نے فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روک دیا
رفح پر اسرائیلی حملہ، خون کی ہولی کا باعث بن سکتا ہے: ڈبلیو ایچ او
اسرائیل رہائشیوں کو رفح سے غزہ کے جنوب مغربی ساحل پر المواسی منتقل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے
اسرائیلی حملوں سے تباہ غزہ کی بحالی کیلئے 40 ارب ڈالر درکار ہوں گے: اقوام متحدہ

بیان میں حماس نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ عالمی برادری اسرائیل سے بین الاقوامی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد کرائے اور اسرائیلی کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی رکوانے میں اپنی ذمہ داری ادا کرے۔

العربیہ کے مطابق حماس کے ایک سینئیر رہنما سمیع ابو زہری عدالت انصاف کے فیصلے کے بارے میں بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘رائٹر’ سے بات کرتے ہوئے کہا ‘یہ فیصلہ غزہ میں اسرائیلی جنگی جرائم کو بے نقاب کرنے اور اسرائیل کو عالمی سطح پر تنہا کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔’

انہوں نے کہا ہے ‘ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ قابض اسرائیل کو مجبور کیا جائے کہ وہ بین الاقوامی عدالت انصاف کے اس فیصلے پر عمل درآمد کرے۔ ‘

واضح رہے جنوبی افریقہ نے ماہ دسمبر کے اواخر بین الاقوامی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف دائر کی تھی۔ جس میں اسرائیل کو غزہ میں نسل کشی سے روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

بعد ازاں اس درخواست پر گیارہ جنوری سے سماعت کا آغاز ہوا تھا۔ عالمی عدالت نے اسرائیل کو اسی درخواست کی بنیاد پر فلسطینیوں کی نسل کشی سے روکتے ہوئے ایک ماہ تک عملی اقدامات کی رپورٹ طلب کی ہے۔

اسرائیل نے عالمی عدالت کے فیصلے سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ کوئی عدالت اسے غزہ میں جنگ سے روک نہیں سکتی، اس لیے عدالت کے کسی بھی فیصلے کو اسرائیل نہیں مانے گا۔ جبکہ حماس نے بین الاقوامی قوانین کے تحت قائم عدالت کے فیصلے ماننے کا اعلان کیا تھا۔

a3w
a3w