جرائم و حادثات

حیدرآباد میں دل دہلادینے والا واقعہ، ماں نے ہی اپنی 9 ماہ کی معصوم بچی کا قتل کردیا

پولیس کے مطابق یہ واقعہ اتوار کی شام تقریباً ساڑھے چھ بجے پیش آیا۔ ہلاک  ہونے والی بچی کی شناخت 9 ماہ کی لوکسانی انورادھا کے طور پر کی گئی ہے، جبکہ پولیس نے اس کی ماں لوکسانی راجیشوری، عمر 34 سال، کو حراست میں لیا ہے۔

حیدرآباد: حیدرآباد کے ایل بی نگر کے قریب بائیرامَل گوڑہ میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں ایک 9 ماہ کی معصوم بچی کی موت کے معاملے میں اس کی اپنی ماں کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ اتوار کی شام تقریباً ساڑھے چھ بجے پیش آیا۔ ہلاک  ہونے والی بچی کی شناخت 9 ماہ کی لوکسانی انورادھا کے طور پر کی گئی ہے، جبکہ پولیس نے اس کی ماں لوکسانی راجیشوری، عمر 34 سال، کو حراست میں لیا ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق راجیشوری کا تعلق انجاپور سے ہے اور الزام ہے کہ اس نے اپنی معصوم بچی کو بائیرامَل گوڑہ کے ایک تالاب میں ڈبو دیا، جس کے نتیجے میں بچی کی موت ہوگئی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور بچی کی لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے عثمانیہ جنرل اسپتال منتقل کردیا۔

پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ واقعے کے وقت خاتون مبینہ طور پر شراب کے نشے میں تھی۔ پولیس نے اسے حراست میں لے کر تفتیش شروع کردی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ آخر اس انتہائی افسوسناک واقعے کے پیچھے اصل وجہ کیا تھی۔

ایک ماں کی جانب سے اپنی ہی 9 ماہ کی بچی کی جان لینے کے الزام نے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ پولیس واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کر رہی ہے، جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور مزید تفتیش کے بعد معاملے میں مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔