یورپ میں گرمی کا قہر جاری، اموات کی تعداد 1300 سے زائد ہوگئی
فرانس، جرمنی، اٹلی، بیلجیم میں درجہ حرارت 40 ڈگری سے تجاوز کرنے کے بعد ان ممالک میں صحت اور ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے، جب کہ پولینڈ، ہنگری اور جمہوریہ چیک کے تقریباً تمام علاقوں میں درجۂ حرارت 35 ڈگری سے اوپر چلا گیا۔ اس کے علاوہ سلوواکیہ، سربیا، کروشیا، اٹلی، آسٹریا اور مغربی یوکرین میں بھی شدید گرمی پڑ رہی ہے۔
پیرس: یورپی ممالک نے آگ برساتی گرمی کا قہر جاری ہے اور اب تک اموات کی تعداد 1300 سے تجاوز کر گئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق یورپی ممالک میں شدید ترین گرمی کی لہر جاری ہے اور کئی ممالک میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جانے کے بعد شہریوں کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 21 جون کے بعد سے یورپ میں 1300 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔ مجموعی طور پر تقریباً 38 کروڑ 10 لاکھ یورپی شہریوں نے 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجۂ حرارت کا سامنا کیا ہے۔ کئی ممالک میں درجہ حرارت کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔
فرانس، جرمنی، اٹلی، بیلجیم میں درجہ حرارت 40 ڈگری سے تجاوز کرنے کے بعد ان ممالک میں صحت اور ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے، جب کہ پولینڈ، ہنگری اور جمہوریہ چیک کے تقریباً تمام علاقوں میں درجۂ حرارت 35 ڈگری سے اوپر چلا گیا۔ اس کے علاوہ سلوواکیہ، سربیا، کروشیا، اٹلی، آسٹریا اور مغربی یوکرین میں بھی شدید گرمی پڑ رہی ہے۔
فرانس میں شدید گرمی سے بچنے کے لیے بڑی تعداد دریاؤں، نہروں اور سوئمنگ پولز کا رخ کر رہی ہے، جس کے باعث 74 افراد ڈوب کر ہلاک ہوئے ہیں۔
دوسری جانب جرمنی کے مشرقی شہر لیپزگ میں شدید گرمی کے باعث ٹرام سروس متاثر ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق شدید درجہ حرارت سے سڑکوں کا اسفالٹ پگھل گیا جبکہ کئی مقامات پر ٹرام کی پٹریاں اور جوائنٹس بھی متاثر ہوئے، جس کے بعد ٹرام سروس کو پیر کی صبح تک معطل کر دیا گیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یورپ کے بیشتر گھروں، دفاتر اور تعلیمی اداروں کو اتنے شدید درجہ حرارت کو برداشت کرنے کے لیے تعمیر نہیں کیا گیا، جس کے باعث گرمی کے اثرات مزید سنگین ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’اس وقت 15 کروڑ لوگ گرمی کی شدید لہر کا سامنا کر رہے ہیں، سیکڑوں اموات ہو چکی ہیں، اسکول بند اور بجلی کا نظام دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔
فرانس کی قومی صحت ایجنسی کے مطابق 24 جون سے اب تک متوقع تعداد سے تقریباً 1000 زیادہ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں اور خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی ہے۔ تاہم وزیر صحت سٹیفنی رسٹ نے کہا کہ بہتر تیاریوں، خاص طور پر بزرگوں کی نگہداشت کے مراکز میں انتظامات کے باعث، فرانس ’شاید‘ 2003 جیسی تباہی سے بچ جائے گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل 2003 میں یورپ میں آنے والی تباہ کن گرمی کی لہر میں تقریباً 15 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے باعث فرانسیسی حکام اموات میں اضافے کے حوالے سے خوفزدہ ہیں۔ دریں اثنا ماہرین صحت نے بزرگ افراد، بچوں اور دائمی بیماریوں میں مبتلا شہریوں کو احتیاطاً غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز، زیادہ پانی پینے کی ہدایت کی ہے۔