حیدرآباد

ایم ایل ایز پوچنگ‘حکومت کی عبوری درخواست پر سماعت سے ہائی کورٹ کا انکار

چیف جسٹس اجل بھویان نے واضح کردیا کہ جب اس مسئلہ کی سماعت کی گئی اور ہائی کورٹ کی ڈیویژن بنچ نے اس مسئلہ پر فیصلہ صادر کردیاہے توپھر اس پر دوبارہ سماعت نہیں کی جاسکتی البتہ اس فیصلہ کوصرف سپریم کورٹ میں چالنج کیاجاسکتا ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے چہارشنبہ کے روز ریاستی حکومت کی عبوری عرضی پر سماعت کرنے سے انکارکردیا جس میں حکومت نے ایم ایل ایزپوچنگ کیس کوسی بی آئی کے سپرد کرنے سے متعلق سنگل جج کے احکام کو معطل رکھنے کی اپیل کی تھی۔

متعلقہ خبریں
این آئی اے پر ہائی کورٹ ڈیویژن بنچ کی تنقید
وارث سرکاروطن ؒ مولانا پیر نقشبندی سے ڈاکٹر ذاکر شاہ افتخاری کی 25رکنی وفد کے ہمراہ روحانی ملاقات
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
نارائن پیٹ میں ضلع کانگریس کی نئی کمیٹی کا اعلان، پارٹی کو گاؤں کی سطح تک مضبوط بنانے پر زور
علمِ بی بی مبارک کی سواری کے لیے ہاتھی کی منظوری، میر فراست علی باقری کا حکومتِ تلنگانہ اور جی کشن ریڈی سے اظہارِ تشکر

 حکومت تلنگانہ نے 26 دسمبر 2022 کے فیصلہ کو تین ہفتوں تک معطل رکھنے کی درخواست کی تھی تاکہ وہ اس فیصلہ کے خلاف ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ سے رجوع ہوسکے۔

چیف جسٹس اجل بھویان نے واضح کردیا کہ جب اس مسئلہ کی سماعت کی گئی اور ہائی کورٹ کی ڈیویژن بنچ نے اس مسئلہ پر فیصلہ صادر کردیاہے توپھر اس پر دوبارہ سماعت نہیں کی جاسکتی البتہ اس فیصلہ کوصرف سپریم کورٹ میں چالنج کیاجاسکتا ہے۔

ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد نے چیف جسٹس کے علم میں یہ بات لائی کہ سی بی آئی‘اس کیس کے فائل کے لئے دباؤ ڈال رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ سی بی آئی نے ایک بارپھر منگل کے روز چیف سکریٹری کومکتوب روانہ کرتے ہوئے کیس کے دستاویزات داخل کرنے کی خواہش کی ہے۔

جسٹس وجئے سین ریڈی کے مشورہ کے ایک دن بعد ایڈوکیٹ جنرل آج چیف جسٹس سے رجوع ہوئے۔ گزشتہ سال 26 دسمبر کو جسٹس وجئے سین ریڈی نے اپنے فیصلہ میں ایم ایل ایز پوچنگ کیس کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کرنے کاحکم دیاتھا۔

 انہوں نے اس کیس کی تحقیقات کے لئے ایس آئی ٹی کی تشکیل کے لئے جاری کردہ جی اوکو کالعدم قرار دیاتھا۔ سنگل جج کے اس فیصلہ کوحکومت نے ڈیویژن بنچ پر چالنج کیاتاہم ڈیویژن بنچ نے پیر کے روز سنگل جج کے فیصلہ کوبرقرار رکھتے ہوئے حکومت کی عرضی خارج کردی تھی۔