مشرق وسطیٰ

شمالی غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد کی تقسیم کی اب اسےمزید اجازت نہیں دی جائے گی :اونروا

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے خدمات فراہم کرنے والی یو این ایجنسی 'اونروا' نے بتایا ہے کہ اسے شمالی غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد کی تقسیم کی اب مزید اجازت نہیں دی جائے گی۔

غزہ: فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے خدمات فراہم کرنے والی یو این ایجنسی ‘اونروا’ نے بتایا ہے کہ اسے شمالی غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد کی تقسیم کی اب مزید اجازت نہیں دی جائے گی۔

متعلقہ خبریں
نیتن یاہو نے کم وسائل میں بھی لڑنے کا اعلان کیا
غزہ میں پہلا روزہ، اسرائیل نے فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روک دیا
رفح پر اسرائیلی حملہ، خون کی ہولی کا باعث بن سکتا ہے: ڈبلیو ایچ او
اسرائیل رہائشیوں کو رفح سے غزہ کے جنوب مغربی ساحل پر المواسی منتقل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے
اسرائیلی حملوں سے تباہ غزہ کی بحالی کیلئے 40 ارب ڈالر درکار ہوں گے: اقوام متحدہ

‘اونروا’ سربراہ فلپ لازارینی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے ‘اسرائیل کا ایہ فیصلہ اشتعال انگیزی پر مبنی ہے اور اس کے نتیجے میں غزہ میں انسانی زندگیاں بچانے کی کوششوں میں رکاوٹ آئے گی۔ یہاں پر لاکھوں انسانوں کو انسانی ساختہ قحط کا سامنا ہے۔’

لازارینی نے مزید کہا ‘اسرائیل کی طرف سے لگائی گئی یہ پابندیاں اور رکاوٹیں فوری ختم ہونی چاہییں اور ‘اونروا’ کے امدادی قافلوں کو غزہ میں جانے کی اجازت دینی چاہیے۔’

واضح رہے چند دن پہلے اسرائیل نے ‘اونروا’ کے چیف کو بھی رفح کے راستے غزہ میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔

ان دنوں غزہ کے لوگوں کی طرح ان کی دیکھ بھال کی کوشش میں مصروف بین الاقوامی اداروں کے لیے بھی اسرائیلی فوج اور اسرائیل کے ہاں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

اسرائیل کی طرف سے ‘اونروا’ کے قافلوں کو شمالی غزہ میں داخل نہ ہونے دینے کے تازہ انتباہ کا تعلق اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس کا غزہ کی سرحد پر آکر صورتحال کا جائزہ لینا بھی بنا ہے۔

العربیہ کے مطابق اسرائیل نے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کی انسانی بنیادوں پر کی گئی اس سرگرمی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہود دشمنی اور اسرائیل دشمنی قرار دیا ہے۔

اسرائیل کی طرف سے اس سے پہلے ‘اونروا’ کے غزہ میں کام کرنے والے 13 ہزار کارکنوں میں سے 12 پر لگائے گئے الزام کے نتیجے میں اسرائیل کو بغیر تحقیقات کے بڑی کامیابی ملی تھی اور امریکہ سمیت متعدد مغربی ملکوں نے ‘اونروا’ کے لیے فنڈنگ روک دی تھی۔ تب سے ‘اونروا’ مسلسل اپنی انسانی بنیادوں پر سرگرمیوں میں مشکلات کا شکار ہے۔

a3w
a3w