حیدرآباد

حیدرآباد: چلتی کارشعلہ پوش، ڈرائیور زندہ جھلس کرہلاک

جب تک دیگر مسافروں نے آگ دیکھ کر حکام کو اطلاع دی، کار مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو چکی تھی۔ ڈرائیور کی لاش بری طرح جلی ہوئی حالت میں ملی اور سیٹ پر صرف ہڈیوں کے ڈھانچہ کے آثار باقی تھے۔

حیدرآباد: شہرحیدرآباد کے شاہ میرپیٹ اوآرآرپرچلتی کارشعلہ پوش ہوگئی جس کے نتیجہ میں کارچلانے والا جھلس کر ہلاک ہوگیا۔

متعلقہ خبریں
جمعہ: دعا کی قبولیت، اعمال کی فضیلت اور گناہوں کی معافی کا سنہری دن،مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
ڈاکٹر فہمیدہ بیگم کی قیادت میں جامعہ عثمانیہ میں اردو کے تحفظ کی مہم — صحافیوں، ادبا اور اسکالرس متحد، حکومت و یو جی سی پر دباؤ میں اضافہ
مولانا محمد علی جوہرنے تحریک آزادی کے جوش میں زبردست ولولہ اور انقلابی کیفیت پیدا کیا: پروفیسر ایس اے شکور
کےسی آر کی تحریک سے ہی علیحدہ ریاست تلنگانہ قائم ہوئی – کانگریس نے عوامی مفادات کوبہت نقصان پہنچایا :عبدالمقیت چندا
اردو اکیڈمی جدہ کے وفد کی قونصل جنرل ہند سے ملاقات، سرگرمیوں اور آئندہ منصوبوں پر تبادلۂ خیال


تفصیلات کے مطابق ایکو اسپورٹ کار او آر آر پر جارہی تھی کہ اچانک اس میں آگ لگ گئی۔ چند ہی لمحوں میں شعلوں نے پوری گاڑی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، اور ڈرائیور کو باہر نکلنے کا کوئی موقع نہیں ملا۔

جب تک دیگر مسافروں نے آگ دیکھ کر حکام کو اطلاع دی، کار مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو چکی تھی۔ ڈرائیور کی لاش بری طرح جلی ہوئی حالت میں ملی اور سیٹ پر صرف ہڈیوں کے ڈھانچہ کے آثار باقی تھے۔


اطلاع ملتے ہی پولیس وہاں پہنچی جس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔آگ لگنے کی وجہ ابھی معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت بھی تاحال نہیں ہو پائی۔پولیس تکنیکی خرابی، اوور ہیٹنگ یا کسی اور وجہ سے اچانک آگ بھڑکنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔


اس واقعہ کے باعث او آر آر پر کچھ دیر کے لئے ٹریفک متاثر ہوا اور گاڑی سواروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔