حیدرآباد: سافٹ ویئر انجینئر تیجسونی کی پراسرار موت، برہنہ حالت میں مندر جانے اور تالاب میں چھلانگ لگانے کا دعویٰ
حیدرآباد کے پیرزادی گوڑہ علاقہ میں سافٹ ویئر انجینئر تیجسونی کی مبینہ خودکشی کا معاملہ دن بہ دن مزید پراسرار بنتا جا رہا ہے۔ پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق تیجسونی مبینہ طور پر برہنہ حالت میں ایک قریبی مندر پہنچی نزدیکی تالاب میں چھلانگ لگا دی، جس کے نتیجہ میں اس کی موت ہو گئی۔
حیدرآباد: حیدرآباد کے پیرزادی گوڑہ علاقہ میں سافٹ ویئر انجینئر تیجسونی کی مبینہ خودکشی کا معاملہ دن بہ دن مزید پراسرار بنتا جا رہا ہے۔ پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق تیجسونی مبینہ طور پر برہنہ حالت میں ایک قریبی مندر پہنچی نزدیکی تالاب میں چھلانگ لگا دی، جس کے نتیجہ میں اس کی موت ہو گئی۔
میڈی پلی پولیس نے اس معاملے میں متوفیہ کی والدہ ارونا سے بھی پوچھ تاچھ کی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آخر کن حالات میں یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ تاہم پولیس نے ابھی تک کسی بھی دعوے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی ہے اور تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس واقعے کی حقیقت جاننے کے لیے علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہے۔ اس کے علاوہ عینی شاہدین کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جا رہے ہیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ تیجسونی مندر سے تالاب تک کس طرح پہنچی اور اس دوران اس کے ساتھ کوئی اور شخص موجود تھا یا نہیں۔
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ تیجسونی ایک کرایہ کے اپارٹمنٹ میں رہ رہی تھی، جہاں مبینہ طور پر وہ روزانہ 3,500 روپے کرایہ ادا کر رہی تھی، جس سے ماہانہ خرچ تقریباً ایک لاکھ روپے بنتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک خودکشی کی کسی ایک وجہ کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ تمام شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ اور پورے واقعے کی حقیقت سامنے آ سکے گی۔