بھارت

مودی سے میری بات ہوتی تو ہندوستان میں مسلمانوں کی حفاظت کے بارے میں پوچھتا: اوباما

اوباما نے زور دے کر کہا کہ اگر کوئی امریکی صدر مودی سے ملتا ہے تو اسے ہندو اکثریت والے ہندوستان میں مسلمانوں کے تحفظ کا ذکر کرنا چاہئے۔

نیویارک: سابق امریکی صدر بارک اوباما نے ہندوستان میں اقلیتوں کے عدم تحفظ کے ممکنہ نتائج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا ہی جاری رہا تو ملک کو ایک اور تقسیم کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں
اڈانی مسئلہ پر کانگریس سے وضاحت کامطالبہ، سرمایہ کاری کے دعوؤں پر شک و شبہات
وزیر اعظم کے ہاتھوں اے پی میں این اے سی آئی این کے کیمپس کا افتتاح
سفارتی تنازعہ، دفتر خارجہ میں مالدیپ کے سفیر کی طلبی
وائرل ویڈیو سے مجھے دلی رنج پہنچا: دھنکر (ویڈیو)
دُبئی میں یو این کلائمیٹ اجلاس: ہندوستان، اگلی کانفرنس کی میزبانی کا خواہاں

سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق صدر امریکہ نے یہ بات کہی۔

ادھر کانگریس پارٹی نے وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ امریکہ کے دوران ہندوستان میں اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے اوباما کے ریمارکس پر تبصرہ کیا اور کہا کہ مودی کے لئے ان کے دوست ’’بارک‘‘ کا یہاں ایک پیام ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اوباما نے یہ تبصرہ اس وقت کیا جب مودی امریکہ کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صدر جو بائیڈن سے ملاقات کی۔

اگرچہ اوباما نے موسمیاتی تبدیلی اور دیگر مسائل پر مودی کے ساتھ تعاون کو تسلیم کیا لیکن انہوں نے سفارتی بات چیت کے دوران ہندوستانی جمہوریت کے بارے میں خدشات کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔

اوباما نے زور دے کر کہا کہ اگر کوئی امریکی صدر مودی سے ملتا ہے تو اسے ہندو اکثریت والے ہندوستان میں مسلمانوں کے تحفظ کا ذکر کرنا چاہئے۔

انہوں نے دلیل دی کہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ میں ناکامی سے اندرونی تنازعات جنم لے سکتے ہیں جو کہ ہندوستان کے مفادات کے خلاف ہوگا۔

اوباما نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ریاستہائے متحدہ کے صدر کے طور پر ان کے انہیں بھی ایسے اتحادیوں کا سامنا ہوا جو اپنی حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کے اندر مثالی جمہوری طریقوں پر عمل نہیں کرتے تھے۔

واضح رہے کہ کانگریس پارٹی نے مودی کے امریکی دورے کے موقع پر ہندوستان میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ پر بارک اوباما کے تبصرے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔