حیدرآباد میں وزیر اعظم مودی نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو بی جے پی میں شامل ہونےکی دعوت دے دی (ویڈیو)
مودی کے اس جملے کے بعد تقریب میں موجود بھارتیہ جنتا پارٹی کے قائدین اور کارکنوں نے زور دار نعرے لگائے، جبکہ سیاسی تجزیہ نگاروں نے اسے تلنگانہ کی بدلتی سیاسی صورتحال کا واضح اشارہ قرار دیا۔
حیدرآباد: وزیر اعظم نریندرمودی نے حیدرآباد میں ایک اہم سرکاری تقریب کے دوران تلنگانہ کے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی پر ہلکے مگر معنی خیز انداز میں سیاسی طنز کرتے ہوئے ریاست کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی۔ وزیراعظم مودی نے اپنی تقریر کے اختتام پر، یہ کہنے کے باوجود کہ وہ کوئی سیاسی بات نہیں کریں گے، ریونت ریڈی کی موجودگی میں ایسا جملہ کہا جسے سیاسی حلقے ایک بڑے اشارے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
وزیراعظم مودی نے مسکراتے ہوئے کہا: “آپ جہاں پہنچنا چاہتے ہیں، وہاں نہیں پہنچ پائیں گے… اس لیے بہتر یہی ہے کہ میرے ساتھ جُڑ جاؤ۔”
مودی کے اس جملے کے بعد تقریب میں موجود بھارتیہ جنتا پارٹی کے قائدین اور کارکنوں نے زور دار نعرے لگائے، جبکہ سیاسی تجزیہ نگاروں نے اسے تلنگانہ کی بدلتی سیاسی صورتحال کا واضح اشارہ قرار دیا۔
وزیراعظم مودی اتوار، 10 مئی کو حیدرآباد پہنچے، جہاں انہوں نے گچی باؤلی کے حیدرآباد انٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں تقریباً 9 ہزار 400 کروڑ روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس موقع پر تلنگانہ کے گورنر شیو پرتاپ شکلا، مرکزی وزراء جی کشن ریڈی، بندی سنجے کمار سمیت کئی اہم سیاسی شخصیات موجود تھیں۔
وزیراعظم نے جن منصوبوں کا افتتاح یا سنگ بنیاد رکھا، ان میں حیدرآباد-پناجی اکنامک کوریڈور کے تحت محبوب نگر تک نیشنل ہائی وے 167 کی فور لیننگ، سنگاریڈی ضلع کے ظہیرآباد انڈسٹریل ایریا، قاضی پیٹ-وجئے واڑہ ریلوے ملٹی ٹریکنگ پروجیکٹ کے مختلف سیکشنز، گرین فیلڈ پیٹرولیم، آئل اور لبریکینٹس ٹرمینل، قاضی پیٹ ریل انڈر بائی پاس اور ورنگل میں قائم پی ایم مترا پارک شامل ہیں۔
ورنگل کا “کاکتیہ میگا ٹیکسٹائل پارک” ملک کا پہلا مکمل فعال پی ایم مترا پارک بن گیا ہے، جسے تقریباً 1700 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کیا گیا۔ یہ منصوبہ مرکز کی “فارم ٹو فائبر، فائبر ٹو فیکٹری، فیکٹری ٹو فیشن اور فیشن ٹو فارن” یعنی 5 ایف پالیسی کے تحت تیار کیا گیا ہے۔
بعد ازاں وزیراعظم مودی نے سکندرآباد کے پریڈ گراؤنڈ میں ایک بڑے عوامی جلسے سے بھی خطاب کیا۔ جلسے کے پیش نظر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ تقریباً دو ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے جبکہ پریڈ گراؤنڈ اور اطراف کے علاقوں کو مکمل طور پر قلعے میں تبدیل کر دیا گیا۔ ملکاجگیری کی پولیس کمشنر بی سُمتی کے مطابق جلسے میں شرکت کرنے والوں کو صرف مخصوص گیٹس سے داخلے کی اجازت دی گئی اور ہر شخص کی مکمل سیکیورٹی جانچ کی گئی۔
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ وزیراعظم مودی کا ریونت ریڈی سے متعلق یہ بیان محض ایک ہلکا پھلکا مذاق نہیں بلکہ تلنگانہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی بڑھتی سیاسی حکمت عملی اور مستقبل کے سیاسی اتحادوں کی طرف ایک واضح اشارہ ہے۔