حیدرآباد

اُلٹا کیس درج کرا کے مزید پھنس گئے بندی سنجے کے بیٹے؟ سائی بھگیرتھ کی شکایت ہی بنی اہم ثبوت

دوسری جانب سائی بھگیرتھ کی جانب سے “ہنی ٹریپ” کا دعویٰ بھی قانونی طور پر کمزور مانا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب معاملہ ایک مائنر لڑکی سے متعلق ہو تو “ہنی ٹریپ” جیسی دلیل زیادہ مؤثر نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ کیس سے بچنے کیلئے اختیار کی گئی حکمت عملی اب خود سائی بھگیرتھ کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

حیدرآباد: مرکزی وزیر وبی جے پی ایم پی بنڈی سنجے کمار کے بیٹے سائی بھگیرتھ پر درج پوکسو کیس اب ایک نئے موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، کیس سے بچنے کیلئے اُلٹا شکایت درج کرانے کی کوشش ہی اب سائی بھگیرتھ کیلئے مزید مشکلات کا سبب بنتی جا رہی ہے۔ مائنر لڑکی کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات کا سامنا کر رہے سائی بھگیرتھ نے اپنے خلاف کارروائی کے خدشے کے بعد کریم نگر پولیس اسٹیشن میں ایک جوابی شکایت درج کرائی تھی، لیکن اسی شکایت میں لکھی گئی کئی باتیں اب ان کے خلاف اہم ثبوت کے طور پر سامنے آ رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں
پون کلیان کے بیان کی مکمل حمایت: بنڈی سنجے
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
وارث سرکاروطن ؒ مولانا پیر نقشبندی سے ڈاکٹر ذاکر شاہ افتخاری کی 25رکنی وفد کے ہمراہ روحانی ملاقات
محرم الحرام 2026 کے انتظامات پر بی جے پی وفد کی کمشنر پولیس حیدرآباد سے ملاقات
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام

بتایا جا رہا ہے کہ متاثرہ لڑکی اور اس کے والدین کی جانب سے شکایت درج کرانے کی تیاری کی اطلاع ملتے ہی بندی سنجے کی ٹیم نے فوری طور پر پولیس میں اُلٹا کیس درج کروایا۔ تاہم سائی بھگیرتھ نے اپنی شکایت میں لڑکی کے ساتھ تعلقات، ملاقاتوں اور دیگر معاملات کا تفصیلی ذکر کیا، جو اب پوکسو کیس میں اہم قانونی شواہد مانے جا رہے ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ مائنر کے ساتھ رضامندی سے تعلقات بھی پوکسو قانون کے تحت جرم ہی شمار ہوتے ہیں، ایسے میں متاثرہ لڑکی کی جانب سے نشہ دے کر جنسی حملے کے الزامات کیس کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں۔

سائی بھگیرتھ کی شکایت میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ انہوں نے دھمکیوں کے بعد 50 ہزار روپے دیے تھے۔ یہی بات اب ان کیلئے مزید سوالات کھڑے کر رہی ہے۔ قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی غلطی نہیں ہوئی تو پھر رقم دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ ایک مرکزی وزیر کے خاندان کو آخر کون آسانی سے دھمکانے کی جرات کرسکتا ہے۔

دوسری جانب سائی بھگیرتھ کی جانب سے “ہنی ٹریپ” کا دعویٰ بھی قانونی طور پر کمزور مانا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب معاملہ ایک مائنر لڑکی سے متعلق ہو تو “ہنی ٹریپ” جیسی دلیل زیادہ مؤثر نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ کیس سے بچنے کیلئے اختیار کی گئی حکمت عملی اب خود سائی بھگیرتھ کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

یہ معاملہ اب سیاسی رنگ بھی اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں بندی سنجے خاندان کو نشانہ بنا رہی ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس کیس پر شدید بحث جاری ہے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ جلد بازی میں درج کرائی گئی شکایت ہی اب سائی بھگیرتھ کے خلاف مضبوط ثبوت کے طور پر استعمال ہو سکتی ہے۔