قومی

ہند-بحیرہ روم تعاون: بھارت اور اٹلی نے اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اور اٹلی کی وزیراعظ مجارجیا میلونی نے ایک مشترکہ مضمون میں بھارت اور اٹلی کے تعلقات کو 21ویں صدی کی ایک اہم اسٹریٹجک شراکت داری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک جمہوری اقدار، اقتصادی ترقی، جدید ٹیکنالوجی اور عالمی استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ طور پر آگے بڑھ رہے ہیں۔

نئی دہلی: بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اور اٹلی کی وزیراعظ مجارجیا میلونی نے ایک مشترکہ مضمون میں بھارت اور اٹلی کے تعلقات کو 21ویں صدی کی ایک اہم اسٹریٹجک شراکت داری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک جمہوری اقدار، اقتصادی ترقی، جدید ٹیکنالوجی اور عالمی استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ طور پر آگے بڑھ رہے ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں بھارت اور اٹلی کے تعلقات میں غیرمعمولی پیش رفت ہوئی ہے اور اب یہ تعلقات محض دوستانہ روابط سے آگے بڑھ کر ایک جامع اور خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق بدلتے ہوئے عالمی نظام میں دونوں ممالک سیاسی، اقتصادی اور تکنیکی شعبوں میں ایک دوسرے کے قدرتی شراکت دار بن کر ابھر رہے ہیں۔

مشترکہ مضمون میں کہا گیا کہ اٹلی کی صنعتی مہارت، ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیتیں بھارت کی تیز رفتار اقتصادی ترقی، انجینئرنگ ٹیلنٹ اور اسٹارٹ اپ کلچر کے ساتھ مل کر نئی اقتصادی راہیں کھول سکتی ہیں۔ دونوں ممالک نے 2029 تک دوطرفہ تجارت کو 20 بلین یورو سے تجاوز تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

رہنماؤں نے دفاع، ایرو اسپیس، صاف توانائی، فارماسیوٹیکل، ٹیکسٹائل، آٹوموٹیو، زرعی خوراک، سیاحت اور جدید ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ "میڈ اِن اٹلی” اور "میک اِن انڈیا” اقدامات ایک دوسرے کے لیے فطری تکمیل رکھتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت (AI)، کوانٹم کمپیوٹنگ، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور اہم معدنیات کے شعبوں کو مستقبل کی عالمی معیشت کا مرکز قرار دیتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے کہا کہ بھارت اور اٹلی انسانی اقدار پر مبنی اور ذمہ دار اے آئی نظام کے فروغ کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔

مضمون میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ٹیکنالوجی کو انسانی وقار، آزادی اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ عوامی رائے پر اثرانداز ہونے یا جمہوری عمل کو کمزور کرنے کے لیے۔

دونوں ممالک نے توانائی، سائبر سکیورٹی، خلائی تحقیق، دفاعی تعاون اور سمندری سلامتی کے شعبوں میں اشتراک کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے دہشت گردی، سائبر جرائم، انسانی اسمگلنگ اور منشیات کی تجارت جیسے عالمی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر بھی زور دیا۔

بھارت-مشرق وسطیٰ-یورپ اقتصادی راہداری (IMEC) کو ایک اہم عالمی منصوبہ قرار دیتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ یہ راہداری ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کو جدید ٹرانسپورٹ، توانائی اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس کے ذریعے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

آخر میں وزیراعظم مودی اور وزیراعظم میلونی نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت اور اٹلی کی تہذیبی اور ثقافتی اقدار دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہیں، اور یہی مشترکہ وژن مستقبل میں ایک مضبوط اور پائیدار شراکت داری کی بنیاد بنے گا۔