کھیل

پاکستان کا سیمی فائنل میں پہنچنا مشکل

پاکستان کے چار میاچس میں سے تین میچ بڑی ٹیموں کے خلاف ہیں۔ ان میں جنوبی افریقہ، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔ پاکستان کیلئے ان تینوں ٹیموں کے خلاف جیتنا آسان نہیں ہوگا۔

حیدرآباد: ورلڈکپ 2023 کے سیمی فائنل تک پہنچنے والی چار سب سے زیادہ زیر بحث ٹیموں میں پاکستان کا نام بھی شامل تھا۔ پاکستانی ٹیم نے توقعات کے مطابق آغاز کیا اور اپنے ابتدائی دونوں میاچس زبردست انداز میں جیتے لیکن اب پاکستانی ٹیم بیک فٹ پر ہے۔

متعلقہ خبریں
دوہری مہارت کے کھلاڑی
پاکستان ہندستانی حالات میں جیتنے کا مضبوط دعویدار : وسیم اکرم
ہند۔پاک ورلڈکپ میاچ کی تاریخ تبدیل
پاکستان اب دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن گیا 
پاکستان اصل مسئلہ نہیں: غلام نبی آزاد

تین پے در پے شکستوں کے بعد ان کیلئے سیمی فائنل میں پہنچنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستان نے اس ٹورنامنٹ میں اب تک اپنے پانچ میں سے دو میچ جیتے ہیں اور 3 میں اسے عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پاکستانی ٹیم نے جن دو میچوں میں کامیابی حاصل کی وہ سری لنکا اور ہالینڈ کے خلاف تھے۔

یعنی پاکستان ٹیم اس ٹورنامنٹ میں صرف کمزور ٹیموں کو شکست دینے میں کامیاب رہی ہے۔ اس نے ہندوستان اور آسٹریلیا جیسی ٹیموں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور پھر افغانستان نے بھی اسے شکست دی۔ بابراعظم کی ٹیم اس وقت یہ پوائنٹس ٹیبل میں پانچویں نمبر پر ہے اور آنے والے میچوں میں اس کی پوزیشن میں بہتری کی بہت کم گنجائش ہے۔

 پاکستان کے چار میاچس میں سے تین میچ بڑی ٹیموں کے خلاف ہیں۔ ان میں جنوبی افریقہ، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔ پاکستان کیلئے ان تینوں ٹیموں کے خلاف جیتنا آسان نہیں ہوگا۔

جہاں انگلینڈ دفاعی چمپئن ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ اس ورلڈکپ میں افراتفری پھیلا رہے ہیں۔ یہ دونوں ٹیمیں شاندار فام میں ہے اور پانچ پانچ میاچس میں سے 4,4 میچ جیتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں انہیں شکست دینا پاکستان کیلئے ایک مشکل چیلنج ہونے والا ہے۔

پاکستان کی حالت اب ایسی ہے کہ اگر وہ یہاں سے ایک بھی میچ ہار گیا تو اس کیلئے سیمی فائنل کے دروازے بند ہوسکتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کو ان تینوں بڑی ٹیموں کو کسی بھی قیمت پر شکست دینی ہوگی جوکہ اس وقت ناممکن نظر آتا ہے۔

 پاکستان کیلئے چیلنج صرف یہ نہیں کہ سامنے بڑی ٹیمیں ہوں۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ پاکستان کی بولنگ مکمل طورپر فلاپ ہورہی ہے اور بلے باز بھی اپنا رنگ نہیں چھوڑ پارہے ہیں۔

 ہندوستانی وکٹیں زیادہ اسپن دوست ہیں لیکن پاکستان کے پاس موجودہ اسکواڈ میں ایک بھی موثر اسپنر نہیں ہے۔ پاکستانی فاسٹ بولرس بھی ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔ شاہین اور حارث رؤف مشکل وقت میں ٹیم کو وکٹیں حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

 اور پھر بیٹنگ میں امام الحق اور بابراعظم کے بیاٹ بالکل کام نہیں کررہے ہیں۔ یہ دونوں اچھی شروعات کو بڑی اننگز میں بدلنے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔ ایسے میں ورلڈکپ میں پاکستان کیلئے آگے کا راستہ مزید مشکل نظر آتا ہے۔

a3w
a3w