صاحب استطاعت مسلماں پرزندگی میں ایک بارحج کرنا فرض،مولانا قاری محمد مبشر احمدرضوی القادری کا خطاب
سب سے پہلا مکان جس کو اللہ تعالیٰ نے طاعت و عبادت کے لئے مقدر کیا۔ نماز کا قبلہ حج اورطواف کا موضوع بنایا جس میں نیکیوں کا ثواب زیادہ ہے وہ کعبۂ معظمہ ہے جو مکۂ مکرمہ میں واقع ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ کعبۂ معظمہ بیت المقدس سے چالیس سال قبل بنایا گیا ہے جس کی حرمت اور فضیلت اپنی جگہ مسلم ہے۔
حیدرآباد: خطیب اہل سنت و جماعت حضرت مولانا قاری محمد مبشر احمد رضوی القادری نے اپنے بیاں میں کہا کہ قرآن مجیدارشاد فرماتا ہے کہ” اور اللہ کیلئے لوگوں پر اُس کے گھر کا حج کرنا فرض ہے جو وہاں تک چل سکے اور جو منکر ہوا تو اللہ سارے جہاں سے بے پرواہ ہے(کنزالایمان فی ترجمتہ القرآن‘ سورہ آل عمران‘ چوتھا پارہ‘ پہلا رکوع)“ اِس آیت شریفہ کا شانِ نزول بیان کرتے ہوئے مفسرین کرام فرماتے ہے کہ یہود نے مسلمانوں سے کہا کہ بیت المقدس ہمارا قبلہ ہے جو کعبہ سے افضل ہے‘ اِس پر یہ آیتِ شریفہ نازل ہوئی۔
سب سے پہلا مکان جس کو اللہ تعالیٰ نے طاعت و عبادت کے لئے مقدر کیا۔ نماز کا قبلہ حج اورطواف کا موضوع بنایا جس میں نیکیوں کا ثواب زیادہ ہے وہ کعبۂ معظمہ ہے جو مکۂ مکرمہ میں واقع ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ کعبۂ معظمہ بیت المقدس سے چالیس سال قبل بنایا گیا ہے جس کی حرمت اور فضیلت اپنی جگہ مسلم ہے۔
اُس کی نشانیوں میں سے بعض یہ ہیں کہ پرندے کعبۂ مقدس پر نہیں بیٹھتے اور ناہی اُس پر پرواز کرتے ہیں۔ لوگوں کے دل اُس خانہء خدا کی طرف کھنچتے ہیں اور اُن کی آنکہوں سے آنسو روا ں ہوجاتے ہیں۔ہر شبِ جمعہ ارواحِ اولیا اُس کے گرد حاضر ہوتے ہے۔
جو اُس کی بیحرمتی کا قصد کرتا ہے وہ برباد ہوجاتا ہے۔اِس آیتِ شریفہ میں حج کی فرضیت کا حکم اور استطاعت شرط ہے۔
روایت میں آیا ہے کہ ملائکہ مقربین حضرت آدم علیہ السلام کے پیدائش سے دو ہزار سال پہلے خانہء کعبہ کی تعمیر کی ہے۔
جب حضرت آدم علیہ السلام زمین پر تشریف لائے تو فرشتوں کے کہنے پر آپ نے کعبۂ مکرمہ کا طواف کیا اُس کے بعد آپ کی اولاد حضرت نوح علیہ السلام کے زمانۂ اقدس تک اُس کا طواف کرتی رہی۔جب طوفانِ نوح آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے اُسے چوتھے آسمان پر اُٹھالیا پھر جب حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا دور آیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت سیدنا جبرئیل علیہ السلام کو دنیا میں بھیجا تو آپ نے اُس کی نشاندہی فرمائی اور اُسی مقام پر حضرتِ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اُس کی تجدید فرمائی۔
حضرتِ سیدنا اسمائیل علیہ السلام اُس کے معاون بنے۔ جو اِس حرم شریف میں داخل ہوا اُسے نار جہنم سے امان مل گئی۔ زمانۂ خلیل اللہ علیہ السلام سے لیکر آج تک کعبۂ معظمہ (خدا کا گھر) اللہ تعالیٰ کے بندے اور بندیوں کی عبادت و ریاضت اور طواف سے آباد ہے اور قیامت تک آباد رہیگا۔ یہ وہ عظیم المرتبت مقامِ عبادت ہے جہاں پر اللہ تعالیٰ کی بیشمار نشانیاں موجود ہیں۔
احادیث مبارکہ بضمن حج بیت اللہ: حضرت ابن عباس ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے لوگوخدا نے تم پر حج فرض کیا ہے آگے ارشاد فرمایا کہ پوری زندگی میں صرف ایکبار حج فرض ہے اور جو شخص اس سے زیادہ کرے وہ نفل ہے۔(نسائی‘ درامی‘ مشکوٰۃ شریف)
ابو داؤد شریف کی حدیث میں ہیکہ جو شخص حج کا ارادہ کرے تو اُسکو جلد پورا کرے۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص حج‘ عمرہ یا جہاد کے ارادے سے نکلا اور پھر راستہ میں ہی انتقال کر گیا تو اللہ تعالیٰ اُس کے حق میں ہمیشہ کے لئے مجاحد‘ حاجی اور عمرہ کرنے والے کا ثواب لکھ دیتا ہے۔(بیہقی مشکوٰۃ شریف)حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ ضعیف والد کمزوری کی وجہ سے حج نہ کرسکے تو اولاد پر لازم ہے کہ وہ والد کی جانب سے حج و عمرہ اداکرے۔(ترمذی)حضرت ابن عمر ؓ نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عورت بغیر محرم کے ہرگز سفر حج نہ کرے۔ (بخاری‘ مسلم)
مسئلہ: صاحبِ بہار شریعت حضرت علامہ امجد علی صاحب قبلہ ؒ نے کہا کہ ریا کاری (دکھاوا) یا مال حرام سے حج کرنا حرام ہے۔