حیدرآباد

اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں وقت کی اہم ضرورت: مقررین

ڈاکٹر محمد یوسف اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ اذان انٹرنیشنل اسکول ہمیشہ ادبی و تہذیبی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے کوشاں رہے گا۔ انہوں نے بزم ہدایت اور اس کے صدر جناب آتش حیدرآبادی کو اس کامیاب مشاعرے کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام نئی نسل کو اردو زبان سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

حیدرآباد: اردو زبان و ادب کے فروغ اور تہذیبی اقدار کے تحفظ کے عزم کے ساتھ بزم ہدایت کے زیر اہتمام اذان انٹرنیشنل اسکول، ٹولی چوکی میں ایک عظیم الشان سنجیدہ و مزاحیہ مشاعرہ منعقد کیا گیا، جس میں شعراء، ادباء، دانشوروں اور اردو شائقین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

متعلقہ خبریں
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
گورنمنٹ ڈگری کالج فلک نما میں انا–اکّا مینٹورشپ انٹرن شپ تربیتی پروگرام کا آغاز
محرم الحرام 2026 کے انتظامات پر بی جے پی وفد کی کمشنر پولیس حیدرآباد سے ملاقات
جماعتِ اسلامی ہند گریٹر حیدرآباد ویمنز ونگ کے زیرِ اہتمام صحافیوں اور این جی اوز کا اجلاس
نعتیہ کلام دلوں کو محبتِ رسول ﷺ سے منور کرتا ہے: سعداللہ خان سبیل

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اذان انٹرنیشنل اسکول کے چیئرمین ڈاکٹر مسعود احمد نے کہا کہ موجودہ دور میں اردو زبان کے تحفظ اور اس کے فروغ کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شعراء اور ادباء اردو ادب کی بقا کے لیے جو خدمات انجام دے رہے ہیں وہ لائق تحسین ہیں۔

ڈاکٹر محمد یوسف اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ اذان انٹرنیشنل اسکول ہمیشہ ادبی و تہذیبی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے کوشاں رہے گا۔ انہوں نے بزم ہدایت اور اس کے صدر جناب آتش حیدرآبادی کو اس کامیاب مشاعرے کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام نئی نسل کو اردو زبان سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اذان گروپ آف اسکولس کے ڈائریکٹر سید مسعود احمد نے کہا کہ مادری زبان کسی بھی قوم کی تہذیب، شناخت اور ثقافت کی محافظ ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ اردو زبان سے وابستگی بھی بے حد ضروری ہے۔

بزم ہدایت کے صدر اور معروف شاعر جناب آتش حیدرآبادی (محمد ایوب علی قریشی) نے مہمانوں، شعراء اور سامعین کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کو اردو زبان سے قریب کرنا وقت کا اہم تقاضہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ تہذیب و ثقافت کی علامت ہے۔

مدیر سہ ماہی “ریختہ نامہ” ڈاکٹر مرزا مصطفیٰ علی بیگ المعروف جاوید کمال نے کہا کہ اردو کے فروغ کے لیے صرف مشاعروں تک محدود رہنے کے بجائے تعلیمی اداروں میں اردو کے فروغ پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔

معروف شاعر و ناظمِ مشاعرہ جناب لطیف الدین لطیف نے کہا کہ آتش حیدرآبادی اردو زبان سے بے پناہ محبت رکھتے ہیں اور مستقل ادبی سرگرمیوں کے ذریعے اردو کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔

عالمی شہرت یافتہ شاعر شاہد عدیلی نے کہا کہ موجودہ دور میں اردو زبان بڑی حد تک مشاعروں اور مدارس کے ذریعے زندہ ہے۔ انہوں نے شدید گرمی کے باوجود سامعین کی بڑی تعداد میں شرکت کو اردو سے محبت کا ثبوت قرار دیا۔

اس موقع پر بزم ہدایت کی جانب سے ایک خصوصی دیدہ زیب سونئیر بھی جاری کیا گیا۔ سونئیر کے لیے وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہر الدین، سابق سفیر ہند ڈاکٹر اوصاف سعید اور صدر تلنگانہ اردو اکیڈیمی طاہر بن حمدان سمیت دیگر شخصیات نے تہنیتی پیامات روانہ کیے۔

بعد ازاں معروف شاعر جناب صلاح الدین نیر کی صدارت میں مشاعرہ منعقد ہوا، جس میں جلیل نظامی، آتش حیدرآبادی، ساجد عباسی، باسط علی رئیس، سیف نظامی، انجنی کمار گوئل، وحید پاشاہ قادری، ڈاکٹر طیب پاشاہ قادری اور لطیف الدین لطیف سمیت کئی شعراء نے اپنا کلام پیش کیا اور سامعین سے بھرپور داد وصول کی۔

تقریب میں شہر کی مختلف علمی، ادبی اور سماجی شخصیات کے علاوہ ٹولی چوکی کے مختلف کالونیوں کے ذمہ داران اور معززین کی بڑی تعداد شریک رہی۔ آخر میں جناب لطیف الدین لطیف نے تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔