اولیائے کرام کی درگاہیں محبت، بھائی چارے اور روحانی سکون کا مرکز ہیں: مولانا عبدالحمید رحمانی چشتی
مولانا رحمانی چشتی نے کہا کہ حضرات یوسفین رحمۃ اللہ علیہ شہر حیدرآباد کے لیے روحانی مرکز کی حیثیت رکھتے ہیں، جہاں صدیوں سے ہزاروں افراد فیض حاصل کرتے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص قربِ الٰہی اور روحانی سکون حاصل کرنا چاہتا ہے، وہ اولیائے کاملین کے آستانوں سے رہنمائی اور باطنی فیض حاصل کر سکتا ہے۔
حیدرآباد: صدر کل ہند تنظیم اصلاح معاشرہ مولانا محمد عبدالحمید رحمانی چشتی نے کہا ہے کہ اولیائے کرام کی درگاہیں محبت، بھائی چارے اور نفرتوں کے خاتمے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اہل اللہ اور بزرگانِ دین انسانیت کے لیے رحمتِ الٰہی کا مظہر ہوتے ہیں اور ان کے آستانے روحانی سکون و باطنی فیض کے مراکز ہیں۔
وہ حضرات یوسفین رحمۃ اللہ علیہ کے 326 ویں سالانہ عرس شریف کے موقع پر منعقدہ جلسہ “فیضانِ اولیاء” سے خطاب کر رہے تھے۔
مولانا رحمانی چشتی نے کہا کہ حضرات یوسفین رحمۃ اللہ علیہ شہر حیدرآباد کے لیے روحانی مرکز کی حیثیت رکھتے ہیں، جہاں صدیوں سے ہزاروں افراد فیض حاصل کرتے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص قربِ الٰہی اور روحانی سکون حاصل کرنا چاہتا ہے، وہ اولیائے کاملین کے آستانوں سے رہنمائی اور باطنی فیض حاصل کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء کا ذکر قرآن پاک میں فرمایا ہے اور حدیث مبارکہ میں بھی اہل اللہ کی دعاؤں کی تاثیر بیان کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اولیائے کرام کی سب سے پسندیدہ عبادت نماز اور سچائی تھی، لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نماز کی پابندی اور سچائی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور کسی کی دل آزاری سے گریز کریں۔
مولانا نے کہا کہ اسلام میں کسی کا دل دکھانا بہت بڑا گناہ ہے، اس لیے مسلمانوں کو محبت، اخوت اور انسانیت کے جذبے کے ساتھ زندگی گزارنی چاہیے۔
عرس شریف کے موقع پر عظیم الشان جلوسِ صندل بھی نکالا گیا جس میں ہزاروں عشاقانِ اولیاء نے شرکت کی۔ اس موقع پر اجمیر شریف سے تشریف لائے فضل الامین چشتی گدی نشین اجمیر شریف نے بھی شرکت کی اور صندل مالی کی رسم میں حصہ لیا۔
تقریب میں درگاہ حضرات یوسفین رحمۃ اللہ علیہ کے متولی و سجادہ نشین حضرت مولانا سفیان علی شاہ چشتی بھی موجود تھے۔ جبکہ حضرت مولانا سید شاہ عبداللہ حسینی بخاری چشتی سجادہ نشین درگاہ حضرت سید عبدالرحمن دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے خصوصی دعا کرائی۔
جلسے میں مولانا سید رفت علی نقشبندی سمیت مختلف خانقاہوں اور درگاہوں سے وابستہ شخصیات، علماء کرام اور عقیدت مندوں کی بڑی تعداد شریک رہی۔ آخر میں حلقۂ ذکر، دعا اور فاتحہ خوانی کے ساتھ جلسے کا اختتام عمل میں آیا۔