تلنگانہ

کے ٹی آر جیل میں منّے کرشنانک سے ملے، سیاسی انتقام کا الزام

تلنگانہ میں بھارت راشٹر سمیتی (بی آر ایس) کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ نے پیر کے روز سنگاریڈی جیل میں پارٹی لیڈر منّے کرشنانک سے ملاقات کی، جو گزشتہ 12 دنوں سے عدالتی تحویل میں ہیں۔ پارٹی نے ان کی حراست کو سیاسی انتقام سے متاثر قرار دیا ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں بھارت راشٹر سمیتی (بی آر ایس) کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ نے پیر کے روز سنگاریڈی جیل میں پارٹی لیڈر منّے کرشنانک سے ملاقات کی، جو گزشتہ 12 دنوں سے عدالتی تحویل میں ہیں۔ پارٹی نے ان کی حراست کو سیاسی انتقام سے متاثر قرار دیا ہے۔

متعلقہ خبریں
شمس آباد کی مندر میں مورتی کو نقصان، ایک شخص گرفتار
کویتا کی درخواست ضمانت، سی بی آئی کو نوٹس
سوشل میڈیا پوسٹ، کے ٹی آر کے خلاف 2کیس درج
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
نارائن پیٹ میں ضلع کانگریس کی نئی کمیٹی کا اعلان، پارٹی کو گاؤں کی سطح تک مضبوط بنانے پر زور


اس ملاقات کے دوران بی آر ایس کے کئی سینئر رہنما بھی کے ٹی آر کے ساتھ موجود تھے۔ راما راؤ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس پر ہراسانی کی سیاست کرنے اور اپوزیشن کی آوازوں کو دبانے کا الزام لگایا۔


انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سال میں کرشنانک کے خلاف بدعنوانی کو بے نقاب کرنے، حکمرانی پر سوال اٹھانے اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے سبب تقریباً 35 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔


انہوں نے بتایا کہ ان میں سے کئی مقدمات معمولی نوعیت کے ہیں، جن میں عام طور پر تھانے سے ہی ضمانت مل جاتی ہے، لیکن اس کے باوجود وہ اب تک حراست میں ہیں۔


راما راؤ نے کرشنانک کی گرفتاری کو غیر قانونی اور عدالتی ہدایات کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک وکیل، پی ایچ ڈی ہولڈر اور تلنگانہ اسٹیٹ منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ٹی ایس ایم ڈی سی) کے سابق چیئرمین رہ چکے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ پارٹی اس معاملے میں عدالت میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کرے گی۔


انہوں نے ریاستی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ پولیس نظام کا غلط استعمال سیاسی مقاصد کے لیے کر رہی ہے، جس میں حکومت کے ناقدین کی نگرانی اور انہیں ہراساں کرنا شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت قانون و نظم برقرار رکھنے کے بجائے سوشل میڈیا سرگرمیوں پر نظر رکھنے پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔


انہوں نے پارٹی کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور اپنے کارکنوں کو قانونی مدد فراہم کرے گی۔ انہوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ کسی سے خوفزدہ نہ ہوں۔