حیدرآباد میں ملاوٹ کا بڑا پردہ فاش، غیر معیاری ادرک-لہسن پیسٹ بنانے والی فیکٹری سیل
پولیس کے مطابق "ایس کے آر فوڈ پروڈکٹس" نامی اس فیکٹری کا مالک 55 سالہ حسن علی روپانی ہے، جو مبینہ طور پر ناقص اور غیر معیاری خام مال استعمال کرتے ہوئے ادرک-لہسن پیسٹ تیار کر رہا تھا۔
تلنگانہ میں ملاوٹ کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران ایک بڑا انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں پولیس نے شہر کے کٹیدان علاقے میں غیر قانونی طور پر چل رہی ادرک-لہسن پیسٹ بنانے والی فیکٹری پر چھاپہ مار کر اسے سیل کر دیا اور ایک ملزم کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق "ایس کے آر فوڈ پروڈکٹس” نامی اس فیکٹری کا مالک 55 سالہ حسن علی روپانی ہے، جو مبینہ طور پر ناقص اور غیر معیاری خام مال استعمال کرتے ہوئے ادرک-لہسن پیسٹ تیار کر رہا تھا۔ تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ پیسٹ کی تیاری میں لہسن کے چھلکے اور "ایسیٹک ایسڈ” اور "زینتھن گم” جیسے کیمیکلز شامل کیے جا رہے تھے، جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
مزید یہ کہ تیار شدہ پیسٹ کو غیر محفوظ طریقے سے کھلے برتنوں میں رکھا جاتا تھا، جس سے اس میں آلودگی شامل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا تھا۔ یہ ملاوٹی اور غیر معیاری پیسٹ شہر کے مختلف تھوک کرانہ اسٹورز اور کیٹرنگ سروسز کو سپلائی کیا جا رہا تھا۔
چھاپے کے دوران پولیس نے موقع سے 4,000 کلوگرام سے زائد تیار شدہ ملاوٹی ادرک-لہسن پیسٹ ضبط کیا، جبکہ بڑی مقدار میں ناقص خام مال، کیمیائی اشیاء اور استعمال شدہ مشینری بھی برآمد کی گئی۔ ضبط شدہ سامان کی مجموعی مالیت تقریباً 22 لاکھ روپے بتائی جا رہی ہے۔
پولیس نے فیکٹری کو سیل کر کے ملزم کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ اس معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔