جموں و کشمیر

میر واعظ عمر فاروق کو نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی

حکام نے جمعہ کے روز حریت کانفرنس کے صدرنشین میرواعظ عمرفاروق کو سری نگر کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی امامت کرنے کی اجازت نہیں دی۔

سری نگر: حکام نے جمعہ کے روز حریت کانفرنس کے صدرنشین میرواعظ عمرفاروق کو سری نگر کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی امامت کرنے کی اجازت نہیں دی۔ جبکہ جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے ان کی گھر پر نظربندی کیس کی سماعت 6 مارچ کو مقرر کی ہے۔

متعلقہ خبریں
میرواعظ کو 5 ماہ بعد جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت
میرواعظ عمر فاروق، نظربند
جامع مسجد سری نگر میں چوتھے جمعہ بھی نماز کی اجازت نہیں
سری نگر کی جامع مسجد میں مسلسل تیسرے جمعہ کونماز نہیں ہوئی
عالمی برادری، مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل نکالے: میرواعظ عمر فاروق

ذرائع نے بتایا کہ حکام اور جامع مسجد کی دیکھ بھال کرنے والی تنظیم انجمن اوقاف جامع مسجد نے گزشتہ چند دن کے دوران کئی مراحل کی بات چیت کی تاکہ 50 سالہ میرواعظ کو واعظ کرنے اور نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت کی راہ ہموار کی جاسکے۔

بہرحال ذرائع نے بتایا کہ بات چیت ابھی تک ثمرآور ثابت نہیں ہوئی ہے۔ حکام نے جمعرات کے روز اطلاع دی تھی کہ میرواعظ کو نماز جمعہ ادا کرنے اور واعظ کرنے کیلئے جامع مسجد آنے کی اجازت دی جائے گی۔ لیکن جمعہ کی صبح وہ اپنے وعدہ سے مکر گئے اور انہیں ایک بار پھر نظربند کردیا۔

ترجمان اوقاف نے اس اقدام کو ناانصافی پر مبنی بتایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرواعظ کو جامع مسجد میں مذہبی فرائض کی انجام دہی سے روکتے ہوئے ناانصافی کی گئی ہے۔ جامع مسجد مسلمانوں کے لئے اہم اور روحانی اہمیت کی حامل ہے۔

اس پابندی سے نہ صرف ان کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں بلکہ کمیونٹی ارکان کے حقوق بھی متاثر ہوتے ہیں جو اُن کی تعلیمات سے مستفید ہوتے ہیں۔