تلنگانہ اسمبلی کا مانسون اجلاس، دو اہم بلوں پر سیاسی کشمکش، کیا حکومت ’نفرت انگیز تقاریر‘ اور ’کور اربن ریجن‘ بل پیش کرے گی؟
خاص بات یہ ہے کہ صرف بی آر ایس اور بی جے پی ہی نہیں، بلکہ مجلس اتحاد المسلمین اور کانگریس کی حلیف کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے بھی اس بل پر اعتراضات اٹھائے تھے۔
حیدرآباد: تلنگانہ میں اسمبلی کے آئندہ مانسون اجلاس سے پہلے دو اہم بل سیاسی بحث کا مرکز بن گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا کانگریس حکومت مانسون اجلاس کے دوران تلنگانہ نفرت انگیز تقاریر اور نفرت پر مبنی جرائم کی روک تھام بل 2026 اور تلنگانہ کور اربن ریجن، یعنی مربوط شہری حکمرانی بل 2026 کو دوبارہ اسمبلی میں پیش کرے گی؟
دونوں بلوں کو مختلف سیاسی جماعتوں اور سماج کے مختلف طبقات کی جانب سے اعتراضات کا سامنا ہے۔ ایسے میں یہ سوال بھی اہم ہوگیا ہے کہ آیا حکومت ان اعتراضات کو دور کرکے دونوں بلوں کو اسمبلی سے منظور کرانے کے لیے مطلوبہ سیاسی حمایت حاصل کر پائے گی یا نہیں۔
نفرت انگیز تقاریر اور نفرت پر مبنی جرائم کی روک تھام سے متعلق بل اس سال مارچ میں وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کی جانب سے اسمبلی میں پیش کیا تھا۔ بل پر مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان کی جانب سے اعتراضات اور تجاویز سامنے آنے کے بعد 30 مارچ کو اسے سلیکٹ کمیٹی کے حوالے کردیا گیا تھا۔
خاص بات یہ ہے کہ صرف بی آر ایس اور بی جے پی ہی نہیں، بلکہ مجلس اتحاد المسلمین اور کانگریس کی حلیف کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے بھی اس بل پر اعتراضات اٹھائے تھے۔
سی پی آئی کے رکن اسمبلی کنمنینی سامبا سیوا راؤ نے تو بل واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس شق پر سوال اٹھایا تھا جس کے تحت کسی ایک رکن کے بیان یا اقدام کے لیے پوری سیاسی جماعت کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
اگرچہ بل کو مارچ میں سلیکٹ کمیٹی کے حوالے کردیا گیا تھا، لیکن کمیٹی کی باقاعدہ تشکیل 7 جولائی کو ہوئی۔ وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر کو کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 2026 کے مانسون اجلاس کے اختتام سے قبل اپنی رپورٹ پیش کرے۔ کمیٹی نے ہفتے کے روز اپنی پہلی میٹنگ بھی منعقد کی۔
کمیٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بل کو حتمی شکل دینے سے پہلے سیاسی جماعتوں اور سماج کے مختلف طبقات کی تجاویز اور اعتراضات پر غور کیا جائے گا۔
لیکن سیاسی حلقوں میں اصل بحث یہ ہے کہ کیا حکومت پہلے سامنے آنے والے اعتراضات کو دور کر پائے گی؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ حالیہ عرصے میں ریاستی حکومت کی جانب سے حکومت مخالف مواد سوشل میڈیا پر پوسٹ یا شیئر کرنے والے بعض افراد کے خلاف کی گئی گرفتاریوں پر بھی سیاسی حلقوں میں تنقید سامنے آتی رہی ہے۔
دوسری جانب تلنگانہ کور اربن ریجن، یعنی مربوط شہری حکمرانی کے مجوزہ بل 2026 کو بھی مختلف حلقوں کی جانب سے اعتراضات کا سامنا ہے۔ اس بل میں خاص طور پر جائیداد ٹیکس کے ڈھانچے اور زمین و عمارتوں کی قیمت طے کرنے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
پبلک پالیسی ماہر دونتی نرسمہا ریڈی نے اپنے مشوروں میں تلنگانہ ریاستی پراپرٹی ٹیکس بورڈ کی تشکیل کا معاملہ اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق تلنگانہ میونسپلٹیز ایکٹ 2019 کی دفعہ 105 کے تحت ریاستی پراپرٹی ٹیکس بورڈ تشکیل دیا جانا چاہیے تھا، لیکن حکومت نے اب تک یہ بورڈ تشکیل نہیں دیا۔
ان کا کہنا ہے کہ قانون کے نافذ ہونے کے چھ ماہ کے اندر بورڈ کی تشکیل ہونی چاہیے، جس میں اس کے ارکان، اختیارات اور ذمہ داریاں واضح ہوں اور مجوزہ ترامیم بھی اس کی سفارشات کے لیے اس کے سامنے رکھی جائیں۔
زمین اور عمارتوں کی قیمت کے تعین کے طریقہ کار پر بھی اہم اعتراض سامنے آیا ہے۔
موجودہ نظام میں زمین کی قیمت رجسٹریشن محکمہ کی مقرر کردہ رہنما قیمتوں کی بنیاد پر طے کی جاتی ہے، جبکہ عمارت کی قیمت اس کے رقبے، تعمیر کی قسم اور عمارت کی عمر کے حساب سے الگ سے طے کی جاتی ہے۔
لیکن مجوزہ کور اربن ریجن بل میں اس فرق کو ختم کرتے ہوئے رجسٹریشن محکمہ کی رہنما قیمت کو زمین کے ساتھ ساتھ عمارت کی سرمایہ جاتی قیمت کے طور پر استعمال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دونتی نرسمہا ریڈی کے مطابق یہ جائیداد کی قیمت کے تعین کے موجودہ طریقہ کار میں ایک بنیادی تبدیلی ہوگی، لیکن مجوزہ بل یا اس کے اغراض و مقاصد میں اس تبدیلی کی واضح وضاحت موجود نہیں ہے۔
اب تمام نظریں تلنگانہ اسمبلی کے آئندہ مانسون اجلاس پر مرکوز ہیں۔
وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے 25 جولائی کو ایک شمع بردار ریلی کے دوران کہا تھا کہ اسمبلی کا اجلاس اگست کے پہلے ہفتے میں منعقد کیا جائے گا۔ اجلاس میں ایک قرارداد پر بھی بحث کی جانی ہے جس کے ذریعے اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات لڑنے کی کم از کم عمر کم کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔
تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ حکومت اسمبلی اجلاس صرف انتخاب لڑنے کی کم از کم عمر کم کرنے سے متعلق قرارداد منظور کرنے کے لیے بلائے گی یا پھر نفرت انگیز تقاریر اور نفرت پر مبنی جرائم کی روک تھام بل اور کور اربن ریجن بل جیسے متنازع اور اہم بلوں کو بھی ایوان میں پیش کیا جائے گا۔
دونوں بلوں پر پہلے ہی مختلف سیاسی جماعتوں اور عوامی حلقوں کے اعتراضات سامنے آچکے ہیں۔ اس لیے حکومت کے لیے اصل چیلنج صرف بل پیش کرنا نہیں بلکہ ان پر سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرنا بھی ہوگا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ مانسون اجلاس میں حکومت ان دونوں بلوں کو آگے بڑھاتی ہے، اعتراضات دور کرنے کے لیے مزید مشاورت کا راستہ اختیار کرتی ہے، یا پھر سیاسی مخالفت کے پیش نظر ان پر مزید غور کے لیے وقت لیتی ہے۔