شمال مشرق
ٹرینڈنگ

مسلم مطلقہ‘طلاق کے اندراج کیلئے عدالت نہ جائے:کیرالا ہائی کورٹ

جسٹس پی وی کنہی کرشنن نے کہا کہ صرف اس وجہ سے اسے عدالت میں نہیں گھسیٹا جاسکتا کہ اس نے اپنی شادی کا اندراج کیرالا رجسٹریشن آف میاریجس (کامن) رولس 2008 کے تحت کرایا ہے۔

کوچی: کیرالا ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ مطلقہ مسلم خاتون کو اگر وہ پرسنل لا کے مطابق طلاق لے چکی ہو تو طلاق کے اندراج کے لئے عدالت بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں
خلوت سے پہلے طلاق ہوگئی تو کتنا مہر واجب ہے ؟
یہ مقدمہ ان لوگوں کی آنکھ کھولنے کیلئے کافی ہوگا جو قیمتی مقدمات بے ایمان وکلا کے حوالہ کردیتے ہیں
بی ایس این ایل کے فینسی نمبرات کا ہراج
اُردو یونیورسٹی، فاصلاتی فالو آن کورسز میں رجسٹریشن
اسٹامپس اینڈ رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ کی آمدنی میں اضافہ

 جسٹس پی وی کنہی کرشنن نے کہا کہ صرف اس وجہ سے اسے عدالت میں نہیں گھسیٹا جاسکتا کہ اس نے اپنی شادی کا اندراج کیرالا رجسٹریشن آف میاریجس (کامن) رولس 2008 کے تحت کرایا ہے۔

 عدالت نے کہا کہ متعلقہ عہدیدار‘ عدالت کے احکام پر زور دیئے بغیر طلاق کا رجسٹریشن کرسکتا ہے۔ جج نے کہا کہ رول 2008 میں خامی دکھائی دیتی ہے۔ عدالت کی رجسٹری اس فیصلہ کی کاپی ریاستی چیف سکریٹری کو بھیجے گی تاکہ اصلاح ہوجائے۔

a3w
a3w