ابھیشیک بنرجی پر حملے کے بعد بنگال کی سیاست میں ہلچل، ٹی ایم سی نے بی جے پی پر سازش کا الزام عائد کر دیا
پارٹی نے مزید الزام لگایا کہ واقعے میں شامل ایک خاتون کی تصاویر ماضی میں بی جے پی رہنما لوکٹ چٹرجی کے ساتھ بھی سامنے آ چکی ہیں۔ ٹی ایم سی نے مطالبہ کیا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی کرنے والوں اور ہجوم کو جمع کرنے والوں کی نشاندہی کی جائے اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
کولکتہ: مغربی بنگال میں سیاسی کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئی ہے، جہاں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے اپنے قومی جنرل سیکریٹری اور رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی پر ہونے والے حملے کو ایک منظم سازش قرار دیتے ہوئے اس کے پیچھے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا ہاتھ ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔
ٹی ایم سی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر چند تصاویر جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سونار پور میں پیش آنے والے واقعے میں مقامی بی جے پی کارکنان اور عہدیدار براہِ راست ملوث تھے۔ پارٹی کے مطابق اگر یہ واقعہ عوامی غصے کا اچانک اظہار تھا، جیسا کہ بی جے پی دعویٰ کر رہی ہے، تو پھر موقع پر ایک اہم بی جے پی عہدیدار کی موجودگی اور سرگرم کردار پر سوالات اٹھتے ہیں۔
پارٹی نے مزید الزام لگایا کہ واقعے میں شامل ایک خاتون کی تصاویر ماضی میں بی جے پی رہنما لوکٹ چٹرجی کے ساتھ بھی سامنے آ چکی ہیں۔ ٹی ایم سی نے مطالبہ کیا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی کرنے والوں اور ہجوم کو جمع کرنے والوں کی نشاندہی کی جائے اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
یہ واقعہ جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے سونار پور علاقے میں اس وقت پیش آیا جب ابھیشیک بنرجی انتخابی تشدد سے متاثرہ افراد سے ملاقات کے لیے وہاں پہنچے تھے۔ اس دوران مشتعل افراد نے ان پر پتھر اور انڈے پھینکے، شدید نعرے بازی کی اور انہیں گھیرنے کی کوشش کی۔ صورتحال اس قدر کشیدہ ہو گئی کہ انہیں اپنی حفاظت کے لیے کرکٹ ہیلمٹ پہننا پڑا اور سکیورٹی اہلکاروں و ساتھیوں کی مدد سے وہاں سے نکالا گیا۔
بعد ازاں ابھیشیک بنرجی نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کارکنان انہیں قتل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے ان کے ساتھ دھکم پیل کی، "چور، چور” کے نعرے لگائے اور بعض افراد نے انہیں جسمانی طور پر نشانہ بنانے کی بھی کوشش کی، تاہم سکیورٹی اہلکاروں نے بروقت مداخلت کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں کر لیا۔
ٹی ایم سی نے مغربی بنگال اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سویندو ادھیکاری سے بھی جواب طلب کرتے ہوئے ان کی ذمہ داری طے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے بعض سینئر رہنما برسوں سے "بنگلہ دیشی” جیسی اصطلاحات کو توہین آمیز انداز میں استعمال کرتے رہے ہیں اور اب یہی زبان ایک منتخب رکن پارلیمنٹ کے خلاف استعمال کی جا رہی ہے۔
ٹی ایم سی نے اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ آیا مرکز میں بی جے پی حکومت کے دور میں اپوزیشن کے منتخب نمائندوں کے ساتھ یہی سلوک کیا جائے گا، اور کیا لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اس واقعے پر کوئی مؤقف اختیار کریں گے۔