مشرق وسطیٰ

ایران معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف پر نیتن یاہو کا ردِعمل سامنے آگیا

اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر کے مطابق ٹرمپ کے موقف میں افزودہ یورینیئم کے ذخائر کا خاتمہ شامل ہے، میزائل کی پیداوار محدود کرنا اور علاقائی پراکسیز کے لیے ایران کی حمایت ختم کرنا بھی معاہدے کا حصہ ہے۔

تل ابیب: اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے ایران معاہدے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

متعلقہ خبریں
غزہ کو 3 حصوں میں تقسیم کرکے شمالی حصہ اسرائیل میں شامل کرنے کا منصوبہ
تاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
جنگ بندی یا محض دکھاوا، غزہ، لبنان اور ایران میں حملے جاری
ٹرمپ انتظامیہ نے گرین کارڈ حاصل کرنے کا عمل مزید سخت کردیا
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا یوم مزدور پر پیغام


بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر کی جانب سے اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ معاہدے میں فریق نہیں پھر بھی ٹرمپ کے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔


اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر کے مطابق ٹرمپ کے موقف میں افزودہ یورینیئم کے ذخائر کا خاتمہ شامل ہے، میزائل کی پیداوار محدود کرنا اور علاقائی پراکسیز کے لیے ایران کی حمایت ختم کرنا بھی معاہدے کا حصہ ہے۔


اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو اور ٹرمپ نے امریکہ ایران مفاہمتی یادداشت سے متعلق بات چیت بھی کی ہے۔


واضح رہے کہ امریکی صدر نے دھمکی کے بعد ایران پر حملے روکنے اور معاہدہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر اس ہفتے دستخط متوقع ہیں، معاہدے کی دستاویزات آخری مرحلے میں ہیں، دستخط کی تقریب یورپ میں ہونے کا امکان ہے، جس میں نائب امریکی صدر شرکت کریں گے۔