شمالی بھارت

نتیش کمار نے بہار میں بی جے پی کو مضبوط بنایا : اسد اویسی

اسد الدین اویسی نے کہا کہ نتیش کمار نے کہا تھا کہ اے آئی ایم آئی ایم مسلمانوں کی جماعت ہے۔ میں انہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان کی صلاحیت صرف کرمی اور کشواہا تک ہی محدود ہے۔ بہار میں بی جے پی کو طاقتور بنانے کے نتیش کمار ذمہ دار ہیں۔

پٹنہ: اے آئی ایم آ ئی ایم صدر اسد الدین اویسی نے آج چیف منسٹر نتیش کمار پر الزام عائد کیا کہ وہ بہار میں بی جے پی کو طاقتور بنا رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے ارکانِ اسمبلی کے ساتھ سودے بازی کرنے پر تیجسوی یادو کو بھی نشانہئ تنقید بنایا۔

متعلقہ خبریں
حیدرآباد میں پولیس کی جانب سے ہوٹلوں کو رات 11 بجے بند کروانے کی شکایت : احمد بلعلہ
اڈوانی کو تشدد میں ہلاک ہونے والے ہندوستانیوں کی قبروں کے سہارے ایوارڈ کا حصول: اویسی
پٹنہ میں اپوزیشن اتحاد کا شاندار مظاہرہ
رام مندر کی تعمیر، دفعہ 370 اور 3 طلاق کی تنسیخ میں بی جے پی کامیاب: وزیر اعظم مودی
پاکستان میں مخلوط حکومت کی تشکیل کی کوششیں تیز

اویسی نے ہفتہ کے روز بہار کے سیمانچل سے اپنے دو روزہ دورہ کا آغاز کیا۔ انھوں نے کہا کہ ”نتیش کمار نے کہا تھا کہ اے آئی ایم آئی ایم مسلمانوں کی جماعت ہے۔ میں انہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان کی صلاحیت صرف کرمی اور کشواہا تک ہی محدود ہے۔

 بہار میں بی جے پی کو طاقتور بنانے کے نتیش کمار ذمہ دار ہیں۔ میں نے سیمانچل کے عوام کو انصاف دلانے کے لیے لڑنے کا وعدہ کیا ہے اور میں اس لڑائی کو جاری رکھنے یہاں آرہا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ 2020ء کے اسمبلی انتخابات میں سیمانچل کے عوام نے 5 نشستوں کے ساتھ ہماری پارٹی کو آشیرواد دیا تھا۔

آر جے ڈی نے پیسہ کی طاقت کے بل بوتے پر ہمارے چار ارکانِ اسمبلی کو خرید لیا۔ میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ وہ لوگ ارکانِ اسمبلی کو تو خرید سکتے ہیں، لیکن عوام کی تائید کو نہیں۔ اسد الدین اویسی جمعہ کی شام حیدرآباد سے مغربی بنگال کے بگدوگرا ایئرپورٹ پہنچے۔

انہوں نے ہفتہ کے روز اقلیتی غلبہ والے بہار کے ضلع کشن گنج سے اپنی مہم شروع کی۔ واضح رہے کہ سیمانچل ریجن 4 اضلاع بشمول کشن گنج، پورنیہ، اڑریہ اور کٹیہار پر مشتمل ہے۔ یہاں زائد از 50 فیصد مسلم آبادی ہے۔ اس میں 4 لوک سبھا اور 24 اسمبلی نشستیں ہیں۔

 رائے دہندوں کی اکثریت آرجے ڈی کی حامی ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم نے 2020ء کے اسمبلی انتخابات میں مقابلہ کیا تھا اور آر جے ڈی کے مسلم ووٹ بینک کو زبردست نقصان پہنچایا تھا۔ اُس نے 5 نشستیں جیتی تھیں اور زائد از 20 نشستوں پر ”ووٹ کٹوا“ کا رول ادا کیا تھا۔ نتائج آنے کے بعد آر جے ڈی قائدین نے اے آئی ایم آئی ایم کو بی جے پی کی بی ٹیم قرار دے دیا تھا۔