برکت اللہ یونیورسٹی کے نام کی تبدیلی کا فیصلہ نہیں:حکومت مدھیہ پردیش
کانگریس رکن اسمبلی عاطف عارف عقیل نے سوال کیا تھا کہ آیا حکومت 1988 میں قائم ہونے والی یونیورسٹی کا نام بدلنا چاہتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا تھا کہ نیا نام کیا رکھا جانے والا ہے اور اس میں حکومت کی منشا کیا ہے۔
بھوپال (آئی اے این ایس) حکومت ِ مدھیہ پردیش نے واضح کیا ہے کہ اس نے بھوپال کی برکت اللہ یونیورسٹی کا نام بدلنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ وزیر‘اعلیٰ تعلیم اندرسنگھ پرمار نے پیر کے دن ایک سوال کے تحریری جواب میں ریاستی اسمبلی کو یہ بات بتائی۔
کانگریس رکن اسمبلی عاطف عارف عقیل نے سوال کیا تھا کہ آیا حکومت 1988 میں قائم ہونے والی یونیورسٹی کا نام بدلنا چاہتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا تھا کہ نیا نام کیا رکھا جانے والا ہے اور اس میں حکومت کی منشا کیا ہے۔
وزیر نے واضح طورپر کہا کہ یونیورسٹی کا نام بدلنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا لہٰذا سوال کے دوسرے حصہ کا جواب دینے کی ضرورت نہیں۔
کانگریس رکن اسمبلی نے یہ بھی پوچھا تھا کہ آیا حکومت‘ ہندوستان کی جدوجہد آزادی میں اہم رول ادا کرنے والے ممتاز انقلابی ڈاکٹر برکت اللہ بھوپالی کو مجاہد ِ آزادی مانتی ہے۔ اس پر وزیر نے کہا کہ اس سلسلہ میں جانکاری اکٹھا کی جارہی ہے۔