دہلی

تبدیلی مذہب کے سارے معاملے غیرقانونی نہیں: سپریم کورٹ

جسٹس ایم آر شاہ اور جسٹس سی ٹی روی کمار پر مشتمل بنچ نے نوٹس جاری کی اور معاملہ کی سماعت 7 فروری کو مقرر کی۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے ہائی کورٹ کے حکم پر اسٹے (حکم ِ التوا) چاہا، لیکن سپریم کورٹ نے ایسی کوئی ہدایت دینے سے انکار کردیا۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کے دن کہا کہ تبدیلی ئ مذہب (دھرم پریورتن) کے سارے معاملے غیرقانونی نہیں کہے جاسکتے۔ اس نے ہائی کورٹ کے احکام کے خلاف حکومت ِ مدھیہ پردیش کی درخواست کی سماعت پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے یہ بات کہی۔

متعلقہ خبریں
سپریم کورٹ کا تلنگانہ ہائیکورٹ کے فیصلہ کو چالینج کردہ عرضی پر سماعت سے اتفاق
نیٹ یوجی تنازعہ، این ٹی اے کی تازہ درخواستوں پر کل سماعت
مسلم خواتین کے لئے نان و نفقہ سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ قابل ستائش: نائب صدر جمہوریہ
نیٹ یوجی کونسلنگ ملتوی
سپریم کورٹ نے مقدمے کی سماعت میں 4 سال کی تاخیر پر این آئی اے کی سرزنش کی

 ہائی کورٹ نے ضلع مجسٹریٹ کو اطلاع دیے بغیر شادی کرنے والے بین مذہبی جوڑوں کے خلاف کارروائی سے حکومت ِ مدھیہ پردیش کو باز رکھا تھا۔ جسٹس ایم آر شاہ اور جسٹس سی ٹی روی کمار پر مشتمل بنچ نے نوٹس جاری کی اور معاملہ کی سماعت 7 فروری کو مقرر کی۔

 سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے ہائی کورٹ کے حکم پر اسٹے (حکم ِ التوا) چاہا، لیکن سپریم کورٹ نے ایسی کوئی ہدایت دینے سے انکار کردیا۔ تشار مہتا نے کہا کہ شادی کو غیرقانونی تبدیلی ئ مذہب کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اور ہم اس پر آنکھیں بند کرکے نہیں رہ سکتے۔

a3w
a3w