بین الاقوامی

امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں کے بعد بھاری نقصانات کی اطلاع

سی بی ایس نیوز کے مطابق ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے پورے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا، جن میں عمارتیں، گاڑیاں اور طیارے شامل ہیں۔

واشنگٹن: سی بی ایس نیوز کے مطابق ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے پورے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا، جن میں عمارتیں، گاڑیاں اور طیارے شامل ہیں۔

یہ تصاویر فعال سروس ارکان نے فوجی میڈیا پابندیوں کے باعث گمنامی کی شرط پر سی بی ایس نیوز کو فراہم کیں اور ان میں خطے کے متعدد امریکی مقامات پر پہنچنے والے نقصانات دکھائے گئے ہیں۔ایک تعینات سروس ممبر نے میڈیا کو بتایا”یہ ہمارے اڈوں کو بڑا نقصان ہے جسے امریکی عوام سے پویشدہ رکھا گیا ہے۔”

"ہم آنکھیں بند کیے کھڑے ہیں، جبکہ ہم پر ضربیں لگائی جا رہی ہیں۔”سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس کی ایک تصویر کے بارے میں سی بی ایس نیوز نے بوئنگ ای-3 سینٹری طیارے کے پچھلے حصے پر براہِ راست ضرب قرار دیا، جس کی دم اس کے جلتے ہوئے دھڑ سے الگ ہو گئی۔بیس دیگر تصاویر میں بری طرح تباہ شدہ عمارتیں اور رہائشی بلاکس دکھائی دیتے ہیں جن کے ساتھ کنکریٹ کی ‘ٹی-وال’ رکاوٹیں بھی موجود ہیں، جو بنیادی طور پر گرینیڈ اور مورٹر فائر جیسے خطرات کے خلاف تحفظ کے لیے بنائی جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، کیمپ بیورنگ، کیوویت کی تصاویر میں بھی وسیع پیمانے پر نقصان دکھایا گیا – یہ کیمپ امریکی فوجی عملے، زرہ پوش گاڑیوں اور بعض طیاروں کے لیے ایک اہم پارکنگ ایریا ہے۔یہ تصاویر اس وقت سامنے آئیں جب امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل نے ایران کے خلاف جنگ سے مشینی خسارے کا تخمینہ تقریباً 3.7 بلین ڈالر تک لگایا، جس میں تقریباً 60 طیارے بھی شامل ہیں۔

کانگریس کو بھیجی گئی ایک رپورٹ میں انسپکٹر جنرل نے کہا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں کی اطلاع دی ہے۔

پینٹاگون نے سی بی ایس نیوز کی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا "یہ ‘سکوئٹرز’ نہیں ہیں جو اندر آ رہے ہیں،” سروس ممبر نے کہا، اس اصطلاح کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو دفاعی وزیر پیٹ ہیگسیٹھ نے یکم مارچ کو کویت کے پورٹ آف شعیبہ پر ہونے والے اس حملے کے بعد استعمال کی تھی جس میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔اس سروس ممبر نے مزید کہا کہ "ہم ان اڈوں کا دفاع نہیں کر رہے، بس ہم انہیں تباہ ہوتے دیکھ رہے ہیں۔”