حیدرآباد

عثمانیہ یونیورسٹی میں احتجاج پر پابندی کے خلاف بند۔کئی اے بی وی پی کارکن زیرحراست

شہرحیدرآباد کی عثمانیہ یونیورسٹی میں احتجاج پر پابندی کے خلاف اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کی جانب سے منائے گئے بند کے پیش نظر معمولی کشیدگی دیکھی گئی

حیدرآباد: شہرحیدرآباد کی عثمانیہ یونیورسٹی میں احتجاج پر پابندی کے خلاف اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کی جانب سے منائے گئے بند کے پیش نظر معمولی کشیدگی دیکھی گئی۔

متعلقہ خبریں
ڈاکٹر فہمیدہ بیگم کی قیادت میں جامعہ عثمانیہ میں اردو کے تحفظ کی مہم — صحافیوں، ادبا اور اسکالرس متحد، حکومت و یو جی سی پر دباؤ میں اضافہ
وارث سرکاروطن ؒ مولانا پیر نقشبندی سے ڈاکٹر ذاکر شاہ افتخاری کی 25رکنی وفد کے ہمراہ روحانی ملاقات
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
نارائن پیٹ میں ضلع کانگریس کی نئی کمیٹی کا اعلان، پارٹی کو گاؤں کی سطح تک مضبوط بنانے پر زور
علمِ بی بی مبارک کی سواری کے لیے ہاتھی کی منظوری، میر فراست علی باقری کا حکومتِ تلنگانہ اور جی کشن ریڈی سے اظہارِ تشکر

پیر کے روز کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔ اے بی وی پی کے طلبہ نے یونیورسٹی کیمپس میں احتجاج کرتے ہوئیآرٹس کالج کے سامنے انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ سرکلر کی کاپیاں نذر آتش کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ احتجاج پر پابندی کا فیصلہ غیر جمہوری ہے اور وائس چانسلر کے آمرانہ رویہ کی عکاسی کرتا ہے۔

صبح سے ہی عثمانیہ یونیورسٹی پولیس نے کئی اے بی وی پی کے لیڈروں کو احتیاطی طورپر حراست میں لے لیا کیونکہ وہ احتجاج کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔

مظاہرین کو بھی اویوپولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ یہ سرکلر طلبہ کو فنڈس کی کمی، فیکلٹی کی بھرتی، معیاری تعلیم اور ناقص خوراک جیسے مسائل کے خلاف آواز اٹھانے سے روکنے کی سازش ہے۔

اے بی وی پی نے کہا کہ اگریونیورسٹی اس سرکلر کو واپس نہیں لیتی تو وہ ”چلو اسمبلی” احتجاج کیاجائے گا۔