بین الاقوامی

پاکستان نے کینیڈا سے مدد مانگی، دریائے سندھ آبی معاہدہ کی بحالی ضروری:اسحق ڈار

پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحق ڈار نے دریائے سندھ آبی معاہدہ کی بحالی کے لئے کینیڈا سے مدد مانگی۔ اسحق ڈار جو پاکستان کے وزیر خارجہ بھی ہیں‘ اسلام آباد میں کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کے ساتھ مشترکہ پریس بریفنگ سے خطاب کررہے تھے۔

اسلام آباد (پی ٹی آئی) پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحق ڈار نے دریائے سندھ آبی معاہدہ کی بحالی کے لئے کینیڈا سے مدد مانگی۔ اسحق ڈار جو پاکستان کے وزیر خارجہ بھی ہیں‘ اسلام آباد میں کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کے ساتھ مشترکہ پریس بریفنگ سے خطاب کررہے تھے۔

انیتا آنند‘ پاکستان کے 2 رو زہ دورہ پر ہیں۔ دریائے سندھ آبی معاہدہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان 1960 میں ورلڈ بینک کی ثالثی سے طئے پایا تھا۔ یہ معاہدہ سندھ طاس کی 6 دریاؤں کے پانی کی تقسیم سے متعلق ہے۔ اس کے تحت مشرقی دریاؤں کا پانی ہندوستان کے لئے مختص ہے اور مغربی دریاؤں کا پانی بڑی حد تک پاکستان کو ملتا ہے۔

پہلگام دہشت گرد حملہ میں 26 ہلاکتوں کے ایک دن بعد ہندوستان نے اپریل 2025 میں اس معاہدہ کو معطل کردیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ پاکستان جب تک سرحدپار دہشت گردی کے خلاف ٹھوس کارروائی نہیں کرتا اسے معطل رکھا جائے گا۔

اسحق ڈار نے پیر کے دن دعویٰ کیا کہ ہندو ستان نے اپریل 2025 میں دریائے سندھ آبی معاہدہ کو معطل رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے پہلے سے کشیدہ سیکوریٹی صورتِ حال کو ایک نیا رخ دے دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے دوست ممالک بشمول کینیڈا سے مدد مانگ رہے ہیں تاکہ ہندوستان دریائے سندھ آبی معاہدہ کو فوری بحال کردے۔ پانی کو ہتھیار بنانے کا عمل ختم ہوجائے۔ بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کی پاسداری ہو۔