اے آئی ایس اے کارکنوں کی 23 روزہ بھوک ہڑتال ختم
اپوزیشن قانون سازوں‘ ارکان سیول سوسائٹی اور ممتاز شخصیتوں پر مشتمل وفد نے ان سے خواہش کی تھی کہ وہ پارلیمنٹ اور عوامی مہموں کے ذریعہ اپنی تحریک جاری رکھیں۔
نئی دہلی(پی ٹی آئی) آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن (اے آئی ایس اے) کے 3 کارکنوں نے پیر کے دن جنتر منتر پر اپنی 23 روزہ بھوک ہڑتال ختم کردی۔
اپوزیشن قانون سازوں‘ ارکان سیول سوسائٹی اور ممتاز شخصیتوں پر مشتمل وفد نے ان سے خواہش کی تھی کہ وہ پارلیمنٹ اور عوامی مہموں کے ذریعہ اپنی تحریک جاری رکھیں۔
اے آئی ایس اے کارکن نیہا بورا‘ منیش اور آمین نے جو جنتر منتر پر بھوک ہڑتال کررہے تھے‘ دہلی میں بارش کے دوران اپنی ہڑتال ختم کردی۔ وفد نے انہیں یقین دلایا کہ مانسون اجلاس میں پارلیمنٹ میں ان کے مسائل اٹھائے جائیں گے۔
وفد‘ راجیہ سبھا کے رکن منوج جھا‘ سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ‘ سماجی کارکن یوگیندر یادو‘ سینئر وکیل پرشانت بھوشن‘ اداکار پرکاش راج اور شبانہ اعظمی پر مشتمل تھا۔ طلبا سے ہڑتال ختم کردینے کی اپیل کرتے ہوئے یوگیندر یادو نے کہا کہ یہ بھوک ہڑتال ختم کرنا نہیں ہے بلکہ جدوجہد کی اس شکل کا خاتمہ ہے۔
منوج جھا نے کہا کہ طلبا نے تمام محاذوں پر حکومت کو بے نقاب کرتے ہوئے کچھ بڑا حاصل کرلیا ہے۔ شبانہ اعظمی نے کہا کہ ہم ایک نسل کی حیثیت سے اپنی جنریشن زی کا بھلا کرنے میں ناکام رہے لیکن آپ لوگوں نے ہمیں آگے بڑھنے کا راستہ دکھایا ہے۔
راجہ رام سنگھ نے طلبا سے کہا کہ آج سے تمہاری جدوجہد کی گونج ایوان ِ جمہوریت میں بھی سنائی دے گی۔ تم لوگوں نے ساری اپوزیشن کو لڑنے کا راستہ دکھادیا ہے۔ طلبا نے تنظیم نے کہا کہ وہ اب مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان‘ نیشنل ٹسٹنگ ایجنسی اور نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020 کے خلاف ایک ماہ کی ملک گیر مہم چلائے گی۔