سی پی ایم حیدرآباد ساؤتھ ضلع کمیٹی کے زیر اہتمام سیاسی تربیتی اردو کلاسوں کا انعقاد
عبدالستار نے کہا کہ ماہرین معاشیات حکومت کو بار بار خبردار کر رہے ہیں، مگر حکومت اس پر توجہ نہیں دے رہی۔ ایس آئی آر (SIR) کے نام پر بہانوں کے ذریعے لاکھوں ووٹروں کے نام حذف کیے جا رہے ہیں اور عدالتیں بھی حکمرانوں کے مؤقف کی تائید کر رہی ہیں۔ اگر عدالتوں میں اوپر سے نیچے تک اتنے تضادات ہوں گے تو عوام کا انصاف پر اعتماد متزلزل ہونا فطری ہے۔
حیدرآباد: سی پی ایم حیدرآباد ساؤتھ ضلع کمیٹی کی جانب سے سیاسی تربیتی اردو کلاسوں کا انعقاد کیا گیا۔ ضلعی رہنما عبد الستار نے پرنسپل کے طور پر فرائض انجام دیے۔ پارٹی کیڈر کے لیے منعقدہ اس تربیتی پروگرام کا افتتاح ریاستی سیکریٹریٹ کے رکن محمد عباس نے کیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے محمد عباس اور عبدالستار نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ملک کو نہایت پیچیدہ حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لہٰذا عوام کو ہمت اور حوصلے کے ساتھ کام لینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت میں روز بروز روپیہ کی قدر گرتی جا رہی ہے اور معاشی حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں، لیکن اقتدار میں موجود بی جے پی حکومت ان مسائل کو حل کرنے کے بجائے امریکہ کے صدر ٹرمپ کی غلامی میں مصروف ہے۔
انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست سیاست کے ذریعے بی جے پی حکومت ملک اور عوام کو مسائل کے جال میں دھکیل رہی ہے۔ گزشتہ 14 برسوں کی بی جے پی حکومت میں اختیارات کا بے دریغ غلط استعمال جاری ہے۔ پانچ ریاستوں کے انتخابات کے بعد پیٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عام عوام کی کمر توڑ دی گئی، جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ روز بروز مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے، مگر وزیر اعظم مودی عوامی مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے بیرونی دوروں میں مصروف ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ سوال کرنے والوں اور ایماندار سیاسی رہنماؤں کو ڈرا دھمکا کر خاموش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ای ڈی، سی بی آئی سمیت دیگر اداروں کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگر عوام بی جے پی کی سیاست سے ہوشیار نہ ہوئے، سوال نہ کیے اور سیاسی شعور کے ساتھ آگے نہ بڑھے تو سری لنکا جیسے حالات دوبارہ پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام بار بار ایک ہی غلطی دہراتے رہے اور ایماندار و حق گو افراد کا ساتھ نہ دیا تو ہندوستان کو شدید معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جناب عبدالستار نے کہا کہ ماہرین معاشیات حکومت کو بار بار خبردار کر رہے ہیں، مگر حکومت اس پر توجہ نہیں دے رہی۔ ایس آئی آر (SIR) کے نام پر بہانوں کے ذریعے لاکھوں ووٹروں کے نام حذف کیے جا رہے ہیں اور عدالتیں بھی حکمرانوں کے مؤقف کی تائید کر رہی ہیں۔ اگر عدالتوں میں اوپر سے نیچے تک اتنے تضادات ہوں گے تو عوام کا انصاف پر اعتماد متزلزل ہونا فطری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو نہایت خطرناک حالات کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ کمیونسٹ ہی اس ملک کے مزدوروں، کسانوں، چھوٹے اور متوسط پیشہ ور افراد، پسماندہ طبقات اور تمام محروم طبقات کے تحفظ، مساوات، اتحاد، سیکولرازم اور ترقی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ عوام دشمن پالیسیوں کو اپنانے والی حکومتوں سے سوال کرنا چاہیے، ان کا مقابلہ کرنا چاہیے اور اپنے حقوق حاصل کرنے چاہئیں۔ اس کا واحد راستہ جدوجہد ہے۔ عوام کو اپنے حقوق کے لیے تحریکیں چلانی چاہئیں اور بگڑتے ہوئے سیاسی نظام کو عوام ہی بدل سکتے ہیں۔ اسی مقصد کے لیے ان تربیتی کلاسوں کا انعقاد کیا گیا ہے تاکہ لوگ سوچیں اور سماج کو بدلنے کی کوشش کریں۔
بعد ازاں ریٹائرڈ آفیسر شیو کمار نے قومی و بین الاقوامی مسائل، موجودہ سیاسی حالات، مودی حکومت کی پالیسیوں، ڈی لمیٹیشن، ایس آئی آر، خواتین کے حقوق، لیبر کوڈز، اقلیتوں پر حملے، لو جہاد، لینڈ جہاد، تین طلاق، گاؤ کشی، ہجومی تشدد اور ریاستی سیاسی حالات پر تفصیلی خطاب کیا۔
ان اردو تربیتی کلاسوں میں پارٹی اراکین محمد کلیم الدین، محمد محبوب علی، سید افتخار الدین، غلام نصیر، محمد انور خان، یونس بیگم اور دیگر نے شرکت کی۔