بھارت

سونے کی خریداری میں کمی، پرانے زیورات کے تبادلے کی اسکیموں میں اضافہ

کچھ مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ میڈیا میں ایسے رجحانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ پرانے زیورات تبدیل کرکے نئے زیورات خریدنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ تاہم اس دعوے کے بارے میں کوئی جامع سرکاری اعداد و شمار سامنے نہیں آئے ہیں۔

حیدرآباد: ملک میں سونے کی خریداری کے رجحان میں حالیہ مہینوں کے دوران نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، درآمدی محصولات میں اضافے اور معاشی حالات کے باعث عوام کی بڑی تعداد نئی خریداری سے گریز کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں
ایشین گیمز: دوسرے دن ہندوستان کو مزید 6 میڈلس

ایک زمانہ تھا جب سنار اور روایتی سنار برادری سونے کے زیورات تیار کرکے اپنی روزی کماتی تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سونے کا کاروبار بڑے کارپوریٹ اداروں کے ہاتھوں میں منتقل ہو گیا ہے۔ آج ملک بھر میں بڑی جیولری کمپنیاں اس شعبے پر نمایاں اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔

حالیہ عرصے میں مختلف جیولری کمپنیوں کی جانب سے "پرانے زیورات دیں، نئے زیورات لیں” جیسی اسکیموں کی تشہیر میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اخبارات، ٹی وی اور سوشل میڈیا پر ایسی مہمات چلائی جا رہی ہیں جن میں صارفین کو اپنے پرانے زیورات تبدیل کرکے نئے زیورات خریدنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نئی خریداری میں کمی کے باعث کمپنیاں متبادل طریقوں سے اپنے کاروبار کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق پرانے زیورات کے تبادلے کے دوران کمپنیوں کو مختلف چارجز اور نئے زیورات پر میکنگ چارجز کے ذریعے منافع حاصل ہوتا ہے۔

کچھ مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ میڈیا میں ایسے رجحانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ پرانے زیورات تبدیل کرکے نئے زیورات خریدنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ تاہم اس دعوے کے بارے میں کوئی جامع سرکاری اعداد و شمار سامنے نہیں آئے ہیں۔

دوسری جانب جیولری صنعت سے وابستہ افراد کا مؤقف ہے کہ پرانے زیورات کے تبادلے کی سہولت صارفین کے لیے فائدہ مند ہے، کیونکہ اس کے ذریعے لوگ اپنی پسند کے مطابق جدید ڈیزائن حاصل کر سکتے ہیں اور نئے زیورات خریدنے پر آنے والی مکمل لاگت سے بچ سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کی خریداری یا تبادلے کا فیصلہ کرتے وقت صارفین کو میکنگ چارجز، کٹوتیوں، خالصتاً سونے کی مالیت اور دیگر شرائط کا اچھی طرح جائزہ لینا چاہیے تاکہ انہیں کسی قسم کا مالی نقصان نہ ہو۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں عوام کو سرمایہ کاری اور خریداری کے فیصلے سوچ سمجھ کر کرنے چاہئیں اور کسی بھی تشہیری مہم سے متاثر ہونے کے بجائے اپنی مالی ضروریات اور استطاعت کو مدنظر رکھنا چاہیے۔