سوشیل میڈیامشرق وسطیٰ

مدینہ منورہ میں اسلام کے ابتدائی دور کے نایاب آثار دریافت، حضرت عمرؓ کے نام کا کتبہ اور سورۂ اخلاص کی آیات چٹان پر نقش

قرآنی رسم الخط کے ماہر محمد الدوری کے مطابق اس تحریر کا انداز اس بات کی تائید کرتا ہے کہ یہ غالباً حضرت عمر بن خطابؓ کے دورِ خلافت (634 تا 644 عیسوی) سے تعلق رکھتی ہے۔ اگر آئندہ تحقیق سے اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ اسلامی ریاست کے ابتدائی دور کی محفوظ ترین اور قدیم ترین تحریروں میں شمار ہوگی۔

ریاض: سعودی عرب کے ہیریٹیج کمیشن نے مدینہ منورہ کے قریب مہد الذہب کے علاقے میں ہونے والی آثارِ قدیمہ کی کھدائی کے دوران ایک نہایت اہم دریافت کا اعلان کیا ہے، جسے اسلامی تاریخ اور قرآنی مخطوطات کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں
مولانا صابر پاشاہ قادری: حضرت حمزہؓ کے کردار سے نئی نسل کو روشناس کرائیں

دو سیزن پر مشتمل اس تحقیق میں 1,774 آثارِ قدیمہ کو دستاویزی شکل دی گئی، جن میں سینکڑوں اسلامی کتبے، چٹانوں پر نقوش، تاریخی عمارتوں کے آثار، قدیم قافلہ راستے اور کنویں شامل ہیں۔

سب سے نمایاں دریافت ایک چٹان پر حجازی رسم الخط میں کندہ کیا گیا قدیم کتبہ ہے، جس میں درج ہے:

"اللہ عمر بن خطاب کا دنیا اور آخرت میں ولی (دوست) ہے۔ لا إله إلا الله، محمد رسول الله۔”

قرآنی رسم الخط کے ماہر محمد الدوری کے مطابق اس تحریر کا انداز اس بات کی تائید کرتا ہے کہ یہ غالباً حضرت عمر بن خطابؓ کے دورِ خلافت (634 تا 644 عیسوی) سے تعلق رکھتی ہے۔ اگر آئندہ تحقیق سے اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ اسلامی ریاست کے ابتدائی دور کی محفوظ ترین اور قدیم ترین تحریروں میں شمار ہوگی۔

اس کے علاوہ محققین نے ایک اور اہم دریافت بھی کی ہے، جس میں ایک چٹان پر سورۂ اخلاص کی آیات کندہ ملی ہیں۔ اس کتبے میں واضح طور پر یہ الفاظ پڑھے جا سکتے ہیں:

"لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ”

"وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ”

یہ دریافت اس لیے بھی توجہ کا مرکز بنی ہے کیونکہ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس تحریر کا تعلق حضرت عثمان غنیؓ کے دور میں قرآن مجید کے سرکاری مصحف کی تدوین سے بھی پہلے کے زمانے سے ہو سکتا ہے۔

اگر آئندہ سائنسی اور تاریخی تحقیقات اس رائے کی تصدیق کرتی ہیں، تو یہ ایک مضبوط آثارِ قدیمہ کا ثبوت ہوگا کہ قرآن مجید کا متن اپنے ابتدائی دور سے آج تک محفوظ اور غیر تبدیل شدہ ہے۔

البتہ ماہرین نے احتیاط برتنے کی تلقین کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سورۂ اخلاص کے اس کتبے کی حتمی تاریخ کا ابھی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا**، اور کسی بھی قطعی نتیجے پر پہنچنے سے قبل تفصیلی علمی اور آثارِ قدیمہ کی تحقیقات کا انتظار ضروری ہے۔

سعودی ہیریٹیج کمیشن کا کہنا ہے کہ مہد الذہب میں تحقیق کا سلسلہ جاری رہے گا، کیونکہ اس علاقے کا ہر پتھر اور ہر کتبہ اسلام کے ابتدائی دور کی ایک نئی داستان اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔