مشرق وسطیٰ

سعودی عرب کی کابینہ نے غزہ میں مکمل جنگ بندی کے مطالبے کا اعادہ کیا

سعودی عرب کی کابینہ نے ایک بار پھر غزہ میں مکمل جنگ بندی کے مطالبے کا اعادہ کیا ہے۔ اپنے تازہ اجلاس میں کابینہ نے اس امر پر زور دیا کہ خطے مکمل استحکام کا حصول صرف ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم ہونے سے ہی ممکن ہے۔

ریاض: سعودی عرب کی کابینہ نے ایک بار پھر غزہ میں مکمل جنگ بندی کے مطالبے کا اعادہ کیا ہے۔ اپنے تازہ اجلاس میں کابینہ نے اس امر پر زور دیا کہ خطے مکمل استحکام کا حصول صرف ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم ہونے سے ہی ممکن ہے۔

متعلقہ خبریں
جنوبی غزہ میں اسرائیل کے حملے 16 فلسطینی جاں بحق
سعودی عرب کا اسرائیل کے خلاف اہم بیان
اسرائیلی فائرنگ میں پانچ افراد فوت
غزہ جنگ جاری رہی تو پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آسکتا ہے:سعودی عرب
رمضان میں مسجداقصیٰ کیلئے اسرائیل کی نئی پابندیاں

العربیہ کے مطابق سعودی کابینہ کا اجلاس منگل کے روز دارالحکومت ریاض میں ہوا ہے۔ اجلاس میں مملکت کی طرف سے مکمل جنگ بندی کے اپنے مطالبے کو دہراتے ہوہے کہا گیا ‘ مملکت پورے علاقے میں شہریوں کے تحفظ کو ضروری سمجھتی ہے۔ نیز شہریوں کے لیے امدادی کارروائیوں کے ذریعے ان کی ضروریات پوری کی جائیں۔’

کابینہ نے قرار دیا’ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے ہی پورے خطے کے لیے سلامتی و استحکام ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ ایک ایسی آزاد فلسطینی ریاست جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔’

واضح رہے اسرائیل اور حماس کے درمیان چار روزہ جنگ بندی کے بعد دو دن کی توسیعی جنگ بندی بھی بدھ کے روز ختم ہو جائے گی۔ اس عارضی جنگ بندی کے دوران یرغمالیوں کی رہائی کے علاوہ شہریوں کو امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے، تاہم سعودی عرب سمیت بہت سے ملک چاہتے ہیں کہ مستقل جنگ بندی ضروری ہے تاکہ جنگ کے پھیلنے کے خطرے کو بھی روک جا سکے۔

کابینہ کے اجلاس میں موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجوں سے نمٹنے اور قرضوں کے سلسلے میں گروپ 20 کے فریم ورک کی تصدیق کی گئی۔ جس سے ان امور کے حوالے سے مملکت کی دلچسپی واضح ہوتی ہے۔ کابینہ کی طرف سے ان موضوعات پر بین الاقومی تعاون بڑھانے پر زور دیا دیا گیا تاکہ چیلنجوں سے نمٹنے کی ٹھوس حکمت عملی کامیاب ہو سکے اور عالمی معیشت کے مسائل کے حل کرنے میں مدد فراہم ہو سکے۔

سعودی کابینہ کے اجلاس میں پانچویں عرب کانفرنس کے ان نتائج کا بھی جائزہ لیا گیا جو علاقے اور بین الاقوامی سطح پر موجود آبی مسائل کے لیے تجویز کے لیے پیش کیے گئے تھے۔ ان میں ایک عالمی آبی تنظیم کا قیام بھی شامل تھا نیز آبی چیلنجوں کے تکنیکی حل پیش کرنے پر بھی بات کی گئی تاکہ پائیدار آبی تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔

کابینہ کے اجلاس میں بین الاقوامی سطح پر منعقدہ حالیہ اجلاسوں کے بارے میں بھی بات ہوئی اور مضبوطی و استحکام کی خاطر جاری کوششوں کے لیے اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون پر بھی بات کی گئی۔ نیز ان کوششوں کا ذکر ہوا جو مملکت دنیا میں انصاف اور امن یقینی بنانے کے لیے ان شراکت داروں کے ساتھ مل کرکرتی ہے۔