امریکہ و کینیڈاسوشیل میڈیا

کینیڈا میں اسلامو فوبیا کیخلاف پہلی بار نمائندہ خصوصی تعینات

امیرہ الغاویبی انسانی حقوق کی کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ کینیڈین ریس ریلیشن فاؤنڈیشن کی کمیونیکشن سربراہ اور ٹورونٹو اسٹار اخبار کی کالم نگار بھی ہیں، انہوں نے اس سے قبل ایک دہائی سے زائد عرصے تک پبلک براڈکاسٹ کمپنی سی بی سی میں بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔

اوٹاوا: مسلمانوں پر ہونے والے پے در پے حملوں اور افسوس ناک واقعات کے بعد کینیڈا میں اسلاموفوبیا کے خلاف پہلی بار نمائندہ خصوصی تعینات کردیا گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ ’ اسلاموفوبیا، نسل پرستی کے نظام، نسلی امتیاز اور مذہبی عدم برداشت کے خلاف صحافی اور انسانی حقوق کی کارکن امیرہ الغاویبی مشیر، ماہر اور نمائندہ کے طور پر خدمات انجام دیں گی’۔

امیرہ الغاویبی انسانی حقوق کی کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ کینیڈین ریس ریلیشن فاؤنڈیشن کی کمیونیکشن سربراہ اور ٹورونٹو اسٹار اخبار کی کالم نگار بھی ہیں، انہوں نے اس سے قبل ایک دہائی سے زائد عرصے تک پبلک براڈکاسٹ کمپنی سی بی سی میں بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔

وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے امیرہ الغاویبی کی تعیناتی کو سراہا اور تمام فورم پر نفرت انگیزی اور اسلاموفوبیا سے لڑنے کے لیے اس تعیناتی کو اہم قدم قرار دیا۔جسٹن ٹروڈو نے مزید کہا کہ مسلمانوں کے ساتھ اسلاموفوبیا کے واقعات سے سب واقف ہیں۔

گزشتہ کچھ سالوں سے کینیڈا کی مسلم کمیونٹی پر کئی قاتلانہ حملے کیے گئے۔جون 2021 میں کینیڈا کے جنوبی صوبہ اونٹاریو میں ایک شخص نے ٹرک مسلمان خاندان پر چڑھا دیا تھا جس کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔چار سال قبل کیوبیک سٹی میں قاتلانہ حملے میں 6 مسلمان جاں بحق اور 5 زخمی ہوگئے تھے۔

گزشتہ روز امیرہ الغاویبی نے کینیڈا میں حالیہ واقعات کے نام درج کرتے ہوئے ٹوئٹ میں کہا کہ ہم ان واقعات کو کبھی نہیں بھولیں گے ۔

مسلمانوں پر قاتلانہ حملوں کے پیش نظر جون 2021 میں وفاقی حکومت کی جانب سے اسلاموفوبیا پر ہونے والے ایک اجلاس میں یہ عہدہ بنانے کی سفارش کی گئی تھی۔

a3w
a3w