سپریم کورٹ نے ایک ہی وکیل کی جانب سے دائر 25 مفادِ عامہ کی عرضیاں مسترد کر دیں
چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی ) سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی پر مشتمل بنچ نے درخواست گزار وکیل سچن گپتا سے کہا کہ وہ مفادِ عامہ کی عرضیاں دائر کرنے کے بجائے اپنی قانونی پریکٹس پر توجہ دیں۔
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز ایک ہی درخواست گزار کی جانب سے ذاتی حیثیت میں دائر کردہ 25 مفادِ عامہ کی عرضیوں (پی آئی ایل ) پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔
چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی ) سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی پر مشتمل بنچ نے درخواست گزار وکیل سچن گپتا سے کہا کہ وہ مفادِ عامہ کی عرضیاں دائر کرنے کے بجائے اپنی قانونی پریکٹس پر توجہ دیں۔
چیف جسٹس کانت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا، "پیشہ ورانہ کام پر توجہ دیں۔ جب صحیح وقت آئے گا، ہم کیسز کی سماعت بھی کریں گے۔ لیکن پہلے حساسیت پیدا کرنے اور (حقیقی) مسائل سے نمٹنے کی کوشش کریں۔”
عدالت کے سامنے پیش کی گئی عرضیوں میں مختلف مطالبات شامل تھے، جن میں:
ہندوستان میں تمام مروجہ زبانوں اور بولیوں کے الفاظ پر مشتمل ایک مشترکہ رابطہ زبان تیار کرنے کی پالیسی۔
ٹیلی ویژن پر قانونی آگاہی کے شو کے لیے پالیسی۔
صابن میں کیمیکلز کے استعمال سے متعلق پالیسی، تاکہ صرف نقصان دہ بیکٹیریا کو ختم کرنے والے کیمیکلز کی اجازت دی جائے نہ کہ جلد کی صحت کے لیے ضروری بیکٹیریا کو۔
ملک گیر سطح پر فوڈ/ایف ایس ایس آئی رجسٹریشن مہم کے لیے پالیسی وغیرہ۔
درخواست گزار نے عرضیاں واپس لینے کی اجازت طلب کی، جسے بنچ نے منظور کر لیا۔ بنچ نے غیر سنجیدہ مسائل پر بڑی تعداد میں پی آئی ایل دائر کرنے والوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں "پی آئی ایل کی دکانیں” چلانے والے قرار دیا۔