یورپی ملکوں میں پنکھوں اور ایئر کنڈیشن کی فروخت کے نئے ریکارڈ قائم
فرانس، اسپین، جرمنی اور برطانیہ سمیت کئی ممالک میں درجہ حرارت تمام پرانے ریکارڈ توڑ چکا ہے، جس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
پیرس : یورپی ممالک میں حالیہ شدید ہیٹ ویو اور ریکارڈ توڑ درجہ حرارت کے باعث پنکھوں اور ایئر کنڈیشنرز کی فروخت کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے۔
تفصیلات کے مطابق یورپی ممالک اس وقت تاریخ کی بدترین اور جاں لیوا گرمی کی لہر کی لپیٹ میں ہیں، جس نے پورے براعظم میں نظامِ زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
فرانس، اسپین، جرمنی اور برطانیہ سمیت کئی ممالک میں درجہ حرارت تمام پرانے ریکارڈ توڑ چکا ہے، جس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی گرمی نے براعظم یورپ کے شہریوں کو پہلی بار بڑے پیمانے پر کولنگ ہوم اپلائنسز خریدنے پر مجبور کر دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا فرانس، جرمنی، اٹلی اور اسپین سمیت مختلف یورپی ممالک میں پارہ 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے کے بعد برقی آلات کی مارکیٹوں میں خریداروں کا غیر معمولی رش دیکھا جا رہا ہے۔ طلب میں اچانک سینکڑوں گنا اضافے کے باعث کئی بڑے شہروں کے سپر اسٹورز پر پنکھے اور ایئر کنڈیشنرز نایاب ہو گئے ہیں اور دکانوں کے شیلف مکمل طور پر خالی ہو چکے ہیں۔
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں شدید حبس اور گرمی کے باعث پنکھوں اور ایئر کنڈیشنرز کی فروخت کے تمام پچھلے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔
مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ کے بیشتر ممالک کا موسم روایتی طور پر سرد یا معتدل رہتا ہے، جس کی وجہ سے وہاں کے رہائشی مکانات اور کاروباری مراکز میں ایئر کنڈیشننگ یا پنکھوں کا استعمال نہ ہونے کے برابر تھا۔
تاہم، حالیہ برسوں میں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی شدید تپش کے بعد اب وہاں ان برقی اشیاء کی مانگ بنیادی ضرورت بن چکی ہے، جس کے باعث کمپنیوں کو سپلائی برقرار رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اٹلی سمیت کئی یورپی ممالک میں شدید گرمی اور تپش کے باعث مشہور سیاحتی مقامات کو عام عوام اور سیاحوں کے لیے عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔