حیدرآباد

تلنگانہ ہائی کورٹ کی ویب سائٹ ہوئی ہائیک، پی ڈی ایف فائلیں گیمِنگ سائٹ پر ری ڈائریکٹ

تلنگانہ ہائی کورٹ کی سرکاری ویب سائٹ کو نامعلوم سائبر مجرموں نے ہیک کر لیا، جس کا انکشاف اُس وقت ہوا جب عملے نے ویب سائٹ پر موجود مختلف پی ڈی ایف فائلوں میں چھیڑ چھاڑ دیکھی۔

حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ کی سرکاری ویب سائٹ کو نامعلوم سائبر مجرموں نے ہیک کر لیا، جس کا انکشاف اُس وقت ہوا جب عملے نے ویب سائٹ پر موجود مختلف پی ڈی ایف فائلوں میں چھیڑ چھاڑ دیکھی۔

متعلقہ خبریں
جمعہ: دعا کی قبولیت، اعمال کی فضیلت اور گناہوں کی معافی کا سنہری دن،مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
کےسی آر کی تحریک سے ہی علیحدہ ریاست تلنگانہ قائم ہوئی – کانگریس نے عوامی مفادات کوبہت نقصان پہنچایا :عبدالمقیت چندا
تلنگانہ رعیتولا سمیتی (ٹی آرایس) کا جلد رجسٹریشن کرنے الیکشن کمیشن کو ہدایت
ڈاکٹر فہمیدہ بیگم کی قیادت میں جامعہ عثمانیہ میں اردو کے تحفظ کی مہم — صحافیوں، ادبا اور اسکالرس متحد، حکومت و یو جی سی پر دباؤ میں اضافہ
مولانا محمد علی جوہرنے تحریک آزادی کے جوش میں زبردست ولولہ اور انقلابی کیفیت پیدا کیا: پروفیسر ایس اے شکور

ہائی کورٹ کے آئی ٹی رجسٹرار ٹی وینکٹیشورا راؤ نے فوری طور پر اس واقعے کی اطلاع ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو دیتے ہوئے بتایا کہ کورٹ کی ویب سائٹ tshc.gov.in نیشنل انفارمیٹکس سینٹر (NIC) کے ذریعے بی آر کے آر بھون، ٹینک بنڈ روڈ سے چلائی جارہی ہے۔ اس ویب سائٹ پر روزانہ عدالتی معلومات جیسے کاز لسٹ، کیس اسٹیٹس اور انتظامی نوعیت کے نوٹیفکیشنز و دیگر پی ڈی ایف دستاویزات فراہم کی جاتی ہیں۔

راؤ کے مطابق 11 نومبر 2025 کی صبح یہ دیکھا گیا کہ ویب سائٹ پر موجود کئی پی ڈی ایف فائلیں نہ صرف غیر فعال ہو گئی تھیں بلکہ اِن پر کلک کرنے پر ایک ’بی ڈی جی SLOT‘ نامی گیمِنگ سائٹ پر ری ڈائریکٹ کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے اسے واضح طور پر ہیکنگ اور سائبر جرم قرار دیا، جو ہائی کورٹ کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اس واقعے کے بعد نِک (NIC) کے عہدیداروں نے پی ڈی ایف فائلوں میں چھیڑ چھاڑ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ان کی رپورٹ کا انتظار ہے۔

رجسٹرار نے ڈی جی پی سے درخواست کی کہ متعلقہ حکام کو ایف آئی آر درج کرنے اور واقعے کی مکمل تحقیقات کرنے کی ہدایت دی جائے۔ شکایت کی بنیاد پر حیدرآباد سائبر کرائم پولیس نے جمعہ کے روز آئی ٹی ایکٹ کی دفعات 66 مع 43، 66(C)، 66(D)، دفعہ 337 بی این ایس اور تلنگانہ گیمنگ ایکٹ کی دفعہ 3(1)(i) کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے تفتیش شروع کر دی ہے۔